بیجنگ (12 اپریل 2026): چین نے اپوزیشن لیڈر کے دورے کے بعد تائیوان کو 10 بڑی مراعات کی پیشکش کر دی ہے۔بیجنگ نے تائیوان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت Kuomintang (KMT) کی چیئر وومن چینگ لی ون کے دورہ چین کے بعد تائیوان کو بڑی مراعات کی پیشکش کر دی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بیجنگ کا یہ اقدام تائیوان کی اپوزیشن لیڈر کے دورہ چین کے اختتام پر سامنے آیا ہے۔ اس دورے میں چینگ لی ون نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی اور امن و مفاہمت کی ضرورت پر بات کی۔رپورٹ کے مطابق چین نے تائیوان کے لیے جس 10 نئی مراعات کی پیشکش کی ہے۔ ان میں سیاحوں پر پابندیوں میں نرمی، مثبت ٹیلی وژن ڈراموں کی اجازت، کھانے کی فروخت میں سہولت کی فراہمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔سرکاری خبر رساں ایجنسی Xinhua کے ذریعہ منظر عام پر آنے والے 10 نکاتی نئی پیشکش میں KMT اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے درمیان ایک باقاعدہ مواصلاتی طریقہ کار کے قیام، دونوں فریقوں کے درمیان پروازوں کی مکمل بحالی، شنگھائی اور فوجیان صوبے کے افراد کو تائیوان جانے کی اجازت دینا ہے۔ژنہوا نے کہا کہ خوراک اور ماہی گیری کی مصنوعات کے لیے معائنہ کے معیار کو آسان بنانے کے لیے ایک طریقہ کار قائم کیا جائے گا، لیکن یہ "تائیوان کی آزادی کی مخالفت” کی سیاسی بنیاد پر ہونا چاہیے۔اس میں مزید کہا گیا کہ تائیوان کے ٹی وی ڈراموں، دستاویزی فلموں اور اینیمیشن کو اس وقت تک دکھانے کی اجازت ہوگی جب تک کہ ان میں "صحیح واقفیت، صحت مند مواد، اور اعلیٰ پروڈکشن کوالٹی” ہو۔چین کی اس پیشکش پر تائیوان کی حکومت کی طرف سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔