اسلام آباد (12 اپریل 2026): 15 روزہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات میں امریکا سے معاہدہ نہ ہونے پر ایران کا بڑا موقف سامنے آ گیا۔امریکا اور ایران میں 15 روزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد اسلام آباد میں فریقین کے درمیان امن مذاکرات میں کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان سے واپس روانہ ہو گئے۔امریکا سے معاہدہ طے نہ پانے پر اب ایران کا موقف سامنے آ گیا ہے جس میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطوں کی ایپ ایکس پر اس حوالے سے تفصیلی بیان جاری کیا۔ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا۔ تاہم دو تین اہم نکات پر اختلاف رائے کے باعث جامع معاہدہ نہ ہوسکا۔اسماعیل بقائی نے مزید لکھا کہ یہ مذاکرات چالیس روزہ جنگ کے بعد، بے اعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں ہوئے۔ فطری طور پر یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی کہ محض ایک ملاقات میں کوئی معاہدہ طے پا جائے۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے کچھ نئے معاملات بھی شامل کر دیے گئے جن میں سے ہر ایک کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار امریکا کی جانب سے سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے۔ایران جنگ اور امن مذاکرات سے متعلق تمام خبریںترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ایران، پاکستان اور خطے کے دیگر دوستوں کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔Iran International@IranIntlEsmail Baghai, spokesperson for the Islamic Republic's Ministry of Foreign Affairs, announced that during the recent negotiations with the United States, some understandings were reached on certain issues, but there was still a gap in views on “2 to 3… https://t.co/aFzf9P7nnW— Hiro's gallery (@HiroGallery) April 12, 2026