کانگریس کے قومی صر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا ہے کہ ریاستوں میں انتخابات کے دوران پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ حکومت سیاسی فائدے کے لیے خواتین ریزرویشن قانون کے نفاذ میں جلد بازی کر رہی ہے۔ وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط میں کھڑگے نے اس مطالبے کو دوہرایا ہے کہ حد بندی کے مسئلے پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے 29 اپریل کے بعد ایک کل جماعتی میٹنگ بلائی جائے۔ کیونکہ اس حد بندی کو ’ناری شکتی وندن ادھینیم، 2023‘ میں ترامیم سے جوڑا جا رہا ہے۔Sharing my response to Modi ji, on his letter on the special session of Parliament for a discussion on the Nari Shakti Vandan Adhiniyam from the 16th of April — “As you are aware the Nari Shakti Vandan Adhiniyam, 2023 was passed by Parliament unanimously in September 2023. At… pic.twitter.com/qGq95LCMmP— Mallikarjun Kharge (@kharge) April 12, 2026واضح رہے کہ ملکارجن کھڑگے کا یہ خط وزیر اعظم مودی کے اس خط کے جواب میں آیا ہے جس میں انہوں نے 16 اپریل سے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا تذکرہ کیا تھا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے ہفتہ (11 اپریل) کو وزیر اعظم مودی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ’’مجھے ابھی ابھی 16 اپریل سے ناری شکتی وندن ادھینیم پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے سلسلے میں آپ کا خط موصول ہوا ہے۔‘‘ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ناری شکتی ادھینیم 2023 کو پارلیمنٹ نے ستمبر 2023 میں اتفاق رائے سے منظور کیا تھا۔ اس وقت انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے میں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس اہم قانون کو فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔‘‘ کانگریس صدر نے کہا کہ حالانکہ وزیر اعظم نے اپنے خط میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس کے فوری نفاذ کے لیے وسیع اتفاق رائے موجود تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسے نافذ نہیں کیا۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ ’’تب سے 30 ماہ گزر چکے ہیں اور اب ہمیں اعتماد میں لیے بغیر یہ خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے اور آپ کی حکومت حد بندی کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیے بغیر ہم سے دوبارہ تعاون مانگ رہی ہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ حد بندی اور دیگر پہلوؤں کی تفصیلات کے بغیر اس تاریخی قانون پر کوئی بامعنی بحث کرنا ناممکن ہو گا۔‘‘