آمدنی والے افراد کو 1 لاکھ سے 6 لاکھ تک نقد دینے کا اعلان

Wait 5 sec.

جنوبی کوریا نے آمدنی والے افراد کو کو 1 لاکھ سے 6 لاکھ وون (400 ڈالر سے زائد) تک نقد دینے کا اعلان کردیا تاکہ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھا جاسکے۔جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے 26.2 کھرب وون (تقریباً 17.7 ارب ڈالر) کے اضافی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔اس بڑے مالیاتی پیکیج کا مقصد تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے اثرات سے عوام کو محفوظ رکھنا ہے۔رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ جنوبی کوریائی حکومت نے اس امدادی پیکیج کو فوری طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس پیکیج سے ملک کی نچلی 70 فیصد آمدنی والے طبقات، یعنی تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ افراد براہِ راست مستفید ہوں گے۔صدر "لی” کے خصوصی پروگرام کے تحت مستحق شہریوں کو 1 لاکھ سے 6 لاکھ وون (400 ڈالر سے زائد) تک کی نقد ادائیگیاں کی جائیں گی تاکہ وہ اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کر سکیں۔اس کے ساتھ ہی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدات پر انحصار کرنے والے ملک نے ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہیں۔گزشتہ ماہ کی قیمتوں کو اگلے 6 ماہ تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں اضافہ نہ ہو۔جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اس کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔حکومت کا ماننا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تنازع کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے، لہٰذا یہ پیشگی اقدامات ملکی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔