گیس لوڈ شیڈنگ سے پریشان افراد کے لئے بڑی خبر آگئی، پانی سے چلنے والا چولہا مارکیٹ میں آگیا، یہ چولہا پانی سے ہائیڈروجن بناتا ہے اور اسے فوری طور پر جلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا انقلاب آگیا ہے، اب کچن میں کھانا پکانے کے لیے مہنگی گیس یا روایتی ایندھن کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ ‘گرین وائز’ نامی کمپنی نے ایک ایسا جدید چولہا تیار کر لیا ہے جو پانی سے ہائیڈروجن بنا کر اسے ایندھن کے طور پر استعمال کرتا ہے۔اس سسٹم میں ایک جدید ٹیکنالوجی (PEM Electrolyzer) نصب ہے، جو پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کر دیتی ہے، یہ چولہا پانی سے ہائیڈروجن بناتا ہے اور اسے فوری طور پر جلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔کھانا پکانے کے دوران یہ چولہا آکسیجن خارج کرتا ہے، جس سے کچن کی ہوا صاف اور بہتر ہو جاتی ہے، اس چولہے سے دھوئیں کے بجائے صرف پانی کے بخارات نکلتے ہیں، جو ماحول کے لیے بالکل محفوظ ہے۔کمپنی کے شریک بانی سنجیو چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ سسٹم انتہائی کفایتی ہے، صرف 100 ملی لیٹر صاف پانی (Distilled Water) درکار ہوتا ہے اور تقریباً ایک یونٹ (1 kWh) بجلی سے یہ چولہا 6 گھنٹے تک مسلسل چل سکتا ہے۔اسے چھت پر لگے سولر پینلز سے بھی جوڑا جا سکتا ہے، جو ان علاقوں کے لیے بہترین ہے جہاں گیس یا بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔یہ سسٹم گھروں کے علاوہ ہوٹلوں اور کمیونٹی کچنز کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے، ایک چولہے والے ماڈل کی قیمت تقریباً 1,128 ڈالر (علاوہ ٹیکس) ہے، دو چولہوں والے ماڈل کی قیمت 1,610 ڈالر (علاوہ ٹیکس) مقرر کی گئی ہے۔انڈکشن چولہوں کے مقابلے میں یہ سسٹم زیادہ کارآمد ہے کیونکہ یہ بجلی کو براہِ راست ایندھن میں تبدیل کرتا ہے، جس سے توانائی کی بچت ہوتی ہے۔