امریکہ-ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے مغربی ایشیا جانے والی 10000 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوئی ہیں۔ یہ اطلاع منگل (7 اپریل) کو شہری ہوا بازی کی وزارت کے ایک سینئر افسر نے دی۔ وزارت شہری ہوا بازی میں جوائنٹ سکریٹری اسانگبا چوبا آؤ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنگ شروع ہونے سے قبل ہندوستانی ایئر لائنس مغربی ایشیا میں تقریباً 350-300 پروازیں روزانہ چلاتی تھیں اور اب ان کی تعداد کم ہو کر 90-80 پر آگئی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران پر 28 فروری کو حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی حلمے کیے۔ اس کے بعد سے پور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی جاری ہے۔سینئر افسر نے مزید کہا کہ پورے خطے میں چیلنج ہونے کے باوجود ہندوستانی ایئرلائنس مسلسل کام کر رہی ہیں اور کارگو موومنٹ بھی مسلسل جاری ہے۔ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتوں میں اضافے کے بعد بھی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ گھریلو مارکیٹ میں ہوائی کرایوں میں اضافہ نہ ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے پائلٹوں کے لیے کچھ اصول میں چھوٹ دی ہے اور حکومت تمام اسٹیک ہولڈرس سے مسلسل بات چیت کر رہی ہے۔ایران جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی پروازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، اس لیے ڈی جی سی اے نے عارضی طور پر ایئر لائنس کو طویل فاصلے کی پروازوں پر پائلٹس کے لیے فلائنگ ڈیوٹی ٹائم بڑھانے کی اجازت دے دی ہے۔ حکومت نے کہا کہ پائلٹوں کے لیے فلائنگ ڈیوٹی ٹائم لمٹ کے اصولوں میں نرمی اس لیے کی گئی کیونکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کی جانب سے فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے پروازوں کے لیے درکار طویل پرواز کے اوقات کی وجہ سے ایئر لائنس کو مسائل کا سامنا تھا۔قابل ذکر ہے کہ تھکاوٹ کو روکنے کے لیے جو پرواز کی حفاظت کے لیے خطرہ ہے، ڈی جی سی اے نے پائلٹوں کے پرواز کے وقت کو محدود کرنے کے لیے گزشتہ سال فلائٹ ڈیوٹی کے نئے اصول نافذ کیے تھے۔ نئے قوانین کے مطابق پائلٹس کو 48 گھنٹے مسلسل آرام دیا جائے، جو پہلے تجویز کردہ 36 گھنٹے سے زیادہ ہے۔