کیا ٹرمپ ایران پر جوہری حملہ کرنے والے ہیں؟ وائٹ ہاؤس کا اہم بیان سامنے آگیا

Wait 5 sec.

واشنگٹن (7 اپریل 2026): وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ایران پر جوہری حملے کے حوالے سے وضاحت جاری کر دی۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی منصوبہ رکھتا ہے۔واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی مذکورہ تردید ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی گئی وہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب ہے جس میں انہوں نے ایران کو ڈیل کرنے یا پھر بڑے پیمانے پر حملے کا سامنا کرنے کی دھمکی دی ہے۔یہ تردید ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد بھی آئی ہے جس میں امریکی صدر نے انتہائی سخت زبان استعمال کی۔ ایران کو اپنے مطالبات کے سامنے جھکنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک کانگریس مین جوکوئن کاسترو نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یہ واضح کریں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر غور نہیں کر رہے ہیں۔بعد ازاں، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی افواج ایسے ذرائع استعمال کر سکتی ہیں جنہیں استعمال کرنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔جے ڈی وینس کے اس بیان پر سابق نائب امریکی صدر کمالہ ہیرس سے وابستہ ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ جے ڈی وینس کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔اس پر وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پر سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ تم بالکل جاہل لوگ ہو، نائب صدر کی کہی ہوئی کسی بھی بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں نکلتا۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز الٹی میٹم دیا تھا جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلیے معاہدہ کرے ورنہ بجلی گھروں اور پلوں سمیت اس کے اہم انفراسٹرکچر پر حملے کیے جائیں گے۔