اپنی سریلی آواز سے کروڑوں دلوں کو اپنا دیوانہ بنانے والی آشا بھوسلے کے جسد خاکی کو آج شام نم آنکھوں کے درمیان سپردِ آتش کر دیا گیا۔ 12 اپریل 2026 کو ان کا انتقال ہوا تھا، جس کے بعد سے بالی ووڈ انڈسٹری اور موسیقی سے محبت کرنے والوں میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ آشا بھوسلے نے ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں آخری سانس لی۔ 13 اپریل کی شام تقریباً 5.30 بجے بیٹے آنند بھوسلے نے ان کے جسد خاکی کو ’مکھاگنی‘ (منھ میں آگ) دی۔मशहूर गायिका आशा भोसले पंचतत्व में विलीन, हिंदू-रीति रिवाज से अंतिम संस्कार#FamousSinger | #AshaBhosle | #HinduRituals | #Livetimesnews | #Livetimestv pic.twitter.com/505k52RYOp— Live Times (@livetimes_news) April 13, 2026آشا بھوسلے کو جب آگ کے حوالے کیا گیا، تو وہاں موجود سبھی لوگوں کی آنکھیں نم تھیں، خاص طور سے ان کی پوتی زنائی بھوسلے زار و قطار روتی ہوئی دکھائی دیں۔ ان کے آنسو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ آشا تائی کا اس دنیا سے جانا صرف ایک عظیم فنکار کا انتقال نہیں ہے، بلکہ فیملی کی سب سے مضبوط کڑی کے ٹوٹنے جیسا ہے۔ آنند بھوسلے بھی انتہائی غمگین ماحول میں آخری رسومات کے بعد سبھی مہمانوں کو وداع کرتے ہوئے دکھائی دیے۔اس وقت آشا بھوسلے کی فیملی غم میں ڈوبی دکھائی دے رہی ہے اور آخری وداعی دینے پہنچے لوگ بھی انتہائی غمزدہ نظر آئے۔ جب آنند بھوسلے نے آشا بھوسلے کو ’مکھاگنی‘ دی، تو اس وقت قریبی لوگوں کے چہرے پر ان کے جانے کا غم صاف دکھائی دے رہا تھا۔ کوئی خاموش کھڑا ہوا تھا تو کوئی آنکھیں پونچھتا نظر آیا۔ ماحول میں موجود سناٹے اور درد کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔آشا بھوسلے کو نمناک آنکھوں سے الوداع: بڑی تعداد میں لوگوں نے کیے آخری دیدار، آخری رسومات کی تیاریاں جاریاس درمیان کیبرے کوین ہیلین نے آشا بھوسلے کی موت پر اپنے شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہیلن کے بیشتر گانے آشا بھوسلے نے ہی گائے تھے۔ وہ اپنے کیریئر میں ترقی کا سہرا ہیلن کو دیتی تھیں۔ آشا بھوسلے کو جب سپردِ آتش کیا گیا، تو اس کے بعد ہیلن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے شدید غم کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں جہاں ہوں، ان کی وجہ سے ہوں۔ اچھا ہوا میں ریٹائر ہو گئی۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ان کے انتقال کی خبر سن کر مجھے صدمہ لگا تھا۔ بھگوان ان کی روح کو سکون عطا کرے۔‘‘