تہران (13 اپریل 2026): ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکی حکومت خود کو آقا سمجھنا چھوڑ دے تو معاہدے کی راہیں کھل سکتی ہیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے X پر ایک پوسٹ میں لکھا ’’اگر امریکی حکومت اپنی آمریت پسندی چھوڑ دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو یقیناً معاہدے تک پہنچنے کے راستے نکل آئیں گے۔‘‘صدر مسعود نے مذاکراتی ٹیم کے ارکان کی کارکردگی کی بھی تعریف کی، اور لکھا ’’میں مذاکراتی ٹیم کے اراکین، خاص طور پر میرے عزیز بھائی ڈاکٹر قالیباف صاحب، کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور کہتا ہوں: ’’خدا آپ کو طاقت عطا کرے۔‘‘اگر دولت آمریکا دست از تمامیتخواهی بردارد و به حقوق ملت ایران احترام بگذارد حتما راههایی برای دستیابی به توافق پیدا میشود.به اعضای هیئت مذاکره کننده به ویژه برادر عزیزم آقای دکتر قالیباف خدا قوت میگویم.— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) April 12, 2026ادھر ایرانی اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر ردعمل میں کہا پاکستان میں انتہائی مفصل، سنجیدہ اور چیلنجز سے بھرپور مذاکرات کیے، اور ہم نے نیک نیتی سے بہترین تجاویز پیش کیں، اور اسلام آباد امن مذاکرات میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی، لیکن امریکا کو فیصلہ کرنا ہوگا وہ ایران کا اعتماد جیتنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔امریکا اور ایران میں چند روز بعد بات چیت کا ایک اور راؤنڈ ہو سکتا ہے، وال اسٹریٹ جرنلباقر قالیباف کا کہنا تھا امریکا نے ایک سال میں 2 بار ایران پر حملہ کیا، اسے ہمارا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے، صدر ٹرمپ کی دھمکیاں ایرانی عوام پر اثرانداز نہیں ہوتیں، امریکا نے ہمارا دوبارہ امتحان لیا تو بڑا سبق پڑھائیں گے۔ انھوں نے کہا ’’اگر آپ جنگ کریں گے تو ہم بھی جنگ کے لیے تیار ہیں، اگر آپ منطق کے ساتھ آگے آئیں تو ہم بھی منطق سے بات کریں گے۔‘‘