کویت، رہائشی سہولت کے قوانین مزید سخت کردیئے گئے

Wait 5 sec.

کویت: وزیر مملکت برائے بلدیاتی امور اور وزیر مملکت برائے رہائش نے وزارتی فرمان نمبر 6 برائے 2026 جاری کرتے ہوئے ہاؤسنگ ویلفیئر ریگولیشنز میں ترمیم کر دی ہے، جس کا مقصد سرکاری کرائے کے مکانات کے لیے اہلیت کے معیار کو مزید مؤثر بنانا ہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پبلک اتھارٹی برائے ہاؤسنگ ویلفیئر نے بتایا کہ ان ترامیم کا مقصد شفافیت اور انصاف کو فروغ دینا ہے تاکہ رہائشی سہولت حقیقی مستحقین تک پہنچ سکے۔نئے قواعد کے مطابق درخواست دہندہ نے پہلے کبھی سرکاری ہاؤسنگ سہولت سے فائدہ نہ اٹھایا ہو اور نہ ہی کسی خلاف ورزی کے باعث اس کی سرکاری رہائش منسوخ کی گئی ہو۔ترمیم شدہ ضوابط کے تحت خاندان کے سربراہ یا اس کے شریک حیات کو کسی اور ادارے سے رہائشی یا مالی الاؤنس بھی موصول نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، خاندان کا مستقل طور پر کویت میں مقیم ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ درخواست دہندہ کے پاس فعال کمرشل رجسٹریشن نہیں ہونی چاہیے، سوائے مائیکرو بزنس، مخصوص سرگرمیوں یا فری لانس کام کے۔نئے قوانین کے مطابق درخواست دہندہ کی ماہانہ آمدنی 1,500 کویتی دینار (تقریباً 4,500 امریکی ڈالر) سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم، خصوصی حالات میں 2,000 دینار (تقریباً 6,012 ڈالر) تک آمدنی رکھنے والے افراد بھی صحت یا تعلیمی اخراجات کی بنیاد پر درخواست دے سکتے ہیں۔کویت، انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤناگر ایسی درخواست مسترد ہو جائے تو دوبارہ درخواست ایک سال بعد ہی جمع کرائی جا سکے گی۔ اتھارٹی کے مطابق یہ فرمان سرکاری گزٹ میں اشاعت کے ساتھ ہی نافذ العمل ہو گیا ہے۔