اسرائیلی وزیر اتماربین گویر کا مسجد اقصیٰ پر دوبارہ دھاوا

Wait 5 sec.

یروشلم : اسرائیلی وزیر اتماربین گویر ایک بار پھر مسجداقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے ، جس پر مقبوضہ بیت المقدس میں شدیدغم و غصے کی لہر دوڈ گئی۔تفصیلات کے مطابق اسرائیلی وزیرِ نیشنل سیکیورٹی اتمار بن گویر نے درجنوں انتہا پسند آباد کاروں کے ہمراہ ایک بار پھر مسجدِ اقصی میں دھاوا بول دیا جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔فلسطینی خبر رساں ایجنسی ‘وفا’ نے بتایا کہ بن گویر کا یہ دورہ سخت ترین سیکیورٹی میں کیا گیا جس دوران اسرائیلی فورسز نے فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر کڑی پابندیاں عائد کر دیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گیٹس پر موجود فورسز نے متعدد فلسطینیوں کے شناختی کارڈ قبضے میں لے لیے تاکہ انہیں مسجد میں داخل ہونے سے روکا جا سکے، جبکہ دوسری جانب آباد کاروں کو احاطے کے اندر مذہبی رسومات ادا کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی۔موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بن گویر نے کہا، "آج میں یہاں خود کو مالک محسوس کر رہا ہوں”۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر دباؤ ڈالتے رہیں گے کہ یہودیوں کے لیے مسجدِ اقصی تک رسائی میں مزید اضافہ کیا جائے۔یہ ایک ہفتے کے اندر بن گویر کا مسجدِ اقصی میں دوسرا داخلہ ہے، عرب اور اسلامی دنیا سمیت عالمی سطح پر ان اقدامات کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، جسے مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام کی حرمت کے خلاف سنگین سازش قرار دیا جا رہا ہے۔اردنی وزارتِ خارجہ نے اسے تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور "مقدس مقام کی بے حرمتی” قرار دیا جبکہ صدر محمود عباس کے دفتر نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار کر دیں گے۔حماس نے اسے "یہودیانے کے منصوبوں” کا حصہ قرار دیتے ہوئے عالمِ اسلام سے مسجدِ اقصی کے دفاع کی اپیل کی۔یاد رہے کہ گزشتہ پیر 6 اپریل کو بھی بن گویر نے ایسا ہی قدم اٹھایا تھا، جس کے بعد سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔خیال رہے مسجدِ اقصی کو تقریباً 40 روز کی بندش کے بعد حال ہی میں دوبارہ کھولا گیا تھا۔