نیویارک میں سستے اسٹورز کے حوالے سے خوش خبری

Wait 5 sec.

نیویارک (13 اپریل 2026): نیو یارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے شہر میں پہلی بار سرکاری ملکیت کے گروسری اسٹورز کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت حکومت شہریوں کو سستی اور براہِ راست سرکاری سطح پر اشیائے خورونوش فراہم کرے گی۔یہ منصوبہ شہر کے علاقے لا مارکیٹا (La Marqueta) میں شروع کیا جائے گا، جو ایسٹ ہارلم میں ریلوے ٹریکس کے نیچے واقع ایک تاریخی سرکاری مارکیٹ ہے۔ یہ منصوبہ میئر کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت شہر کے ہر بورو میں ایک ایک سرکاری گروسری اسٹور قائم کیا جائے گا۔نیویارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظہران ممدانی نے کہا شہریوں کے لیے سستے اسٹورز کا جلد افتتاح کریں گے، جہاں سے شہری مناسب قیمت پر اشیا خرید سکیں گے، شہریوں کے لیے فری ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا نیویارک میں ریسکیو سسٹم کو بہترین کر دیا گیا ہے، ہم نے اپنے وعدوں کو پورا کیا ہے اور مزید وعدے بھی پورے کریں گے۔ View this post on Instagram A post shared by NBC New York (@nbcnewyork)رپورٹ کے مطابق میئر انتظامیہ اس منصوبے پر تقریباً 30 ملین ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جب کہ اس کا مقصد نجی اجارہ داری کے مقابلے میں عوامی سطح پر سستے نرخوں پر خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔میئر نے اپنے 100 دن کی کارکردگی کے موقع پر واضح کیا کہ شہر میں خوراک کی قیمتوں میں کووڈ نائنٹین کے بعد حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کم آمدنی والے طبقے پر شدید دباؤ بڑھا ہے۔ اسی تناظر میں یہ منصوبہ ایک ’’پبلک آپشن‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ مارکیٹ میں قیمتوں کو متوازن کیا جا سکے۔پاکستانی وقت کے مطابق آج شام 7 بجے امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کرے گیانھوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت شہر میں مجموعی طور پر پانچ سرکاری گروسری اسٹورز قائم کیے جائیں گے، اور ان کا مقصد صرف سستی خوراک نہیں بلکہ ایک منصفانہ نظامِ تقسیم بھی ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ اسٹورز شہری حکومت کی ملکیت میں ہوں گے اور براہِ راست سرکاری نگرانی میں چلائے جائیں گے۔میئر انتظامیہ کے مطابق یہ منصوبہ سابقہ نیویارک ماڈلز اور تاریخی عوامی مارکیٹس سے متاثر ہے، جن کا مقصد شہریوں کو درمیانی تاجروں کے بغیر سستی اشیا کی فراہمی تھا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہر میں مہنگائی، خاص طور پر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، ایک بڑا سیاسی اور معاشی مسئلہ بنا ہوا ہے، اور انتظامیہ اسے ’’عوامی ریلیف پالیسی‘‘ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سرکاری اسٹورز کے لیے بھاری فنڈنگ، انتظامی چیلنجز اور نجی کاروبار کے ساتھ مقابلہ اہم سوالات پیدا کرتے ہیں، جن پر مزید وضاحت درکار ہے۔سینیٹر برنی سینڈرز کا بڑا بیانبرنی سینڈرز نے ایک بیان میں کہا کہ ظہران ممدانی سوشلزم کی کامیاب مثال ہیں، انھوں نے جو اقدامات کیے ہمیں فخر ہے، یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں کہ لوگ جمہوریت سے بے زار ہو چکے ہیں، لوگ سوچتے ہیں ہمارے ووٹوں سے کچھ لوگ امیر اور ہم غریب ہوتے جا رہے ہیں۔انھوں نے کہا ممدانی نے ثابت کیا حکومت اشرافیہ کی بجائے عوام کے لیے بھی کام کر سکتی ہے، کہ حکومت عوام کی فلاح کے لیے بھی کام کر سکتی ہے، ممدانی امریکی عوام سمیت دنیا بھر میں جمہوریت کے لیے امید پیدا کر رہے ہیں۔