ابوظبی (09 مارچ 2026): متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش پر مؤثر اقدام نہ اٹھانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق یو اے ای نے بحرین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ قرارداد خلیجی ممالک کی مشترکہ کوشش تھی، جس میں جہاز رانی کی آزادی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ ایران نے 28 فروری سے اب تک 21 تجارتی جہازوں پر حملے کیے، جن میں 10 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جب کہ ایرانی خطرات کے باعث تقریباً 20 ہزار ملاح آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔وزارت خارجہ نے کہا کہ قرارداد لائے جانے کے باوجود ایران کے حملے جاری ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور عالمی معیشت سلامتی کونسل کی ناکامی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںیو اے ای کے مطابق آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فی صد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے، جب کہ عالمی کھاد کی ایک تہائی تجارت بھی اسی راستے سے گزرتی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہو چکا ہے اور ایران کا اس اہم گزرگاہ کو بند کرنا عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کے مترادف ہے۔یو اے ای کے وزیر مملکت نے کہا کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دنیا بھر کے عوام پر پڑ رہے ہیں، امارات اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔