تل ابیب (09 مارچ 2026): اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ایران جنگ میں کامیابی کے دعوے کو جھوٹ قرار دے دیا۔یروشلم پوسٹ کے مطابق اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ (یش عتید) نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نیتن یاہو کی ایران کے خلاف جنگ کو ناکام قرار دیا۔لاپڈ نے کہا چند گھنٹوں میں نیتن یاہو اسرائیل کے عوام کے سامنے آئیں گے اور کہیں گے کہ یہ مہم کامیاب رہی، یہ سراسر جھوٹ ہے، نیتن یاہو بدترین نتیجے تک پہنچے، ایران کی حکومت کو شکست نہیں دی جا سکی۔انھوں نے مزید کہا تکبر، غیر ذمہ داری، منصوبہ بندی کی کمی، اندرونی محاذ پر بالکل عدم توجہ، اور امریکیوں کو بیچے گئے جھوٹ ان سب کا خوفناک امتزاج ایک سیاسی تباہی میں بدل گیا ہے۔This is a victory for the United States that President Trump and our incredible military made happen.From the very beginning of Operation Epic Fury, President Trump estimated this would be a 4-6 week operation.Thanks to the unbelievable capabilities of our warriors, we have…— Karoline Leavitt (@PressSec) April 8, 2026جنگ بندی کے حوالے سے لاپڈ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کا نہ تو اس معاہدے پر کوئی اثر و رسوخ تھا اور نہ ہی ان مذاکرات پر جو اس تک لے کر گئے۔ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے بھی جنگ بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے اور افزودہ یورینیم کی سپلائی روکنے کے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںبینیٹ نے کہا آج رات اتنے لوگ مایوس اس لیے ہیں کیوں کہ قیادت نے ہمیں خوش فہمیاں بیچیں۔ حکومت نے ہمیں سچ نہیں بتایا۔ دوسری جانب بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرو لائن لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جنگ بندی کو ’’امریکی فتح‘‘ قرار دیا۔