واشنگٹن (14 اپریل 2026): واشنگٹن میں آج اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہو رہے ہیں، جس میں اہم علاقائی اور سیکیورٹی امور پر بات چیت کی جائے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مذاکرات میں مارکو روبیو بھی شریک ہوں گے، جب کہ لبنان کے لیے امریکی سفیر بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وفد کی قیادت یخیل لیٹر کریں گے، جب کہ لبنانی وفد کی سربراہی ندا حماہ کریں گی۔ مذاکرات میں اسرائیل کی شمالی سرحد کی سیکیورٹی اور لبنان کی خودمختاری جیسے اہم نکات زیر بحث آئیں گے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کی جنگ لبنان سے نہیں بلکہ حزب اللہ سے ہے۔دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے جنوبی لبنان میں لڑائی ختم کرنے اور براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے فلسطینی علاقوں کی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مغربی کنارے کے جزوی الحاق کی بھی مخالفت کی۔آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی سے متعلق تازہ ترین صورت حالجرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے جرمنی کا کردار جنگ بندی اور سازگار حالات سے مشروط ہوگا۔ادھر حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ ان مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات دراصل حزب اللہ پر ہتھیار ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا ایک بہانہ ہیں۔ پیر کو ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر میں انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مجوزہ مذاکرات میں شرکت نہ کر کے تاریخی اور جرآت مندانہ مؤقف اختیار کرے۔قاسم نے کہا اسرائیل واضح طور پر کہتا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے، جیسا کہ نیتن یاہو نے بارہا کہا ہے، تو آپ ایسے مذاکرات میں کیسے جا سکتے ہیں جس کا مقصد پہلے ہی واضح ہو؟عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کی ملاقات آج واشنگٹن میں متوقع ہے، جس سے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سفارتی پیش رفت اہم قرار دی جا رہی ہے۔