امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات ختم کر دیے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور اپنے فیصلے سے پاکستان کو آگاہ کر دیا۔تہران نے جواب میں کہا ہے کہ سیز فائر بات چیت میں مزید حصہ نہیں لیں گے، سینئرایرانی حکام نے تہران کے فیصلے سے پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا ہے ایران کا موقف ہے محض امریکی وعدوں کے بدلے آبنائے ہرمز نہیں کھول سکتے۔ایرانی ذرائعایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیڈلائن کو مسترد کرتے ہوئے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا۔سینئر ایرانی ذرائع نے خبر ایجنسی رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ایران دباؤ میں مذاکرات نہیں کرے گا اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کر دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق امریکا کی سرنڈر کی شرط پر ایران لچک نہیں دکھائے گا، امریکا جب تک ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرے گا ایران لچک نہیں دکھائے گا۔رائٹرز کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں قطر نے ایران کا پیغام امریکا اور خطے تک پہنچایا ہے اگرا یرانی پاور پلانٹس پر حملہ ہوا تو خطہ اندھیرے میں ڈوب جائےگا اگر حالات قابو سے باہر گئے تو باب المندب کو بھی بند کر دیں گے۔ٹرمپامریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کو رات 8 بجے تک مہلت دی ہے معاہدے میں آبنائےہرمز کھولنے سے متعلق شرط شامل ہے اگرہم خوش قسمت رہے تو آج رات تک کچھ طے پا سکتا ہے لیکن اگر ایران معاہدے قبول نہ کرے تو تنازع شدت اختیار کر سکتا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آج رات ایک پوری تہذیب صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں اب مکمل طور پر رجیم تبدیل ہوچکی ہے، ایرانی رجیم میں اب کم شدت پسند ذہینت والے لوگ موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج رات شاید کچھ انقلابی طور پر شاندار ہوجائے، آج دنیا کی طویل اور پیچیدہ تاریخ کے سب سے اہم لمحے کا سامنا ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ 47 سالہ بھتہ خوری، بدعنوانی اور قتل و غارت کا آج آخرکار خاتمہ ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ قوی امکان ہے کہ آج رات 8 بجے تک ایران کا جواب آجائے گا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران جنگ کے حوالے سے تازہ ترین ڈیڈلائن آج پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بجے ختم ہو رہی ہے۔ٹرمپ اس سےقبل بھی متعدد ڈیڈ لائنز کا اعلان کر چکے ہیں۔سب سے پہلی ڈیڈلائن، 21مارچ کو دی گئی جس میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر آبی گزرگاہ کو دوبارہ نہ کھولا تو وہ پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے۔اس کے 2 دن بعد، صدرٹرمپ نے ممالک کے ساتھ بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت کاحوالہ دیتے ہوئے ایرانی توانائی انفراسٹرکچر کے خلاف حملے 5 دن کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔