(9 اپریل 2026): عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کی ایک بار پھر تائید سامنے آئی ہے، جس میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے درمیان گہرے روابط کو بے نقاب کیا گیا ہے۔امریکی جریدے "یوریشیا ریویو” نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے درمیان ایک غیر اعلانیہ معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت افغانستان ان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اپنی سرزمین پر دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کا علم ہونے کے باوجود اسے دنیا سے چھپاتے ہیں اور اپنے اقتدار کے تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے ان گروہوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی سرپرستی میں ہونے والی یہ دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔عالمی ماہرین نے مزید کہا ہے کہ فتنہ الخوارج طویل عرصے سے پاکستان میں خونریزی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور اب عالمی جریدے کی اس رپورٹ نے پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو درست ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردوں کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے ہیں۔اس صورتحال کے تناظر میں ماہرین نے پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن "غضب للحق” کو وقت کی ضرورت اور بالکل درست قدم قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو اب طالبان رجیم پر دباؤ بڑھانا چاہیے تاکہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور خطے کو عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔