اسمارٹ منیجمنٹ جاری مگر لبنان پر حملے کے بعد آبنائے ہرمز سے آمد و رفت رک گئی، سی این این

Wait 5 sec.

تہران (09 مارچ 2026): ایران نے کہا ہے کہ لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد آبنائے ہرمز کی آمد و رفت رک گئی ہے۔سی سی این نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے پاسداران انقلاب نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی شدید سست ہو گئی اور پھر رک گئی، جس کی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں مبینہ جنگ بندی کی خلاف ورزی بتائی گئی۔میرین ٹریفک کے جہاز ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اس وقت کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر نہیں رہا۔ اس سے قبل یہ رپورٹ آئی تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کے اثر میں منگل سے جہاز رانی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کا اقدام اس وقت سامنے آیا جب وائٹ ہاؤس نے کہا کہ لبنان امریکا اور ایران کے نازک جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے، لبنان کی حکومت کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ روز لبنان پر سب سے بڑے حملے کیے، جس میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کا خطرہ، ایران نے بحری جہازوں کے لیے متبادل روٹس جاری کر دیےسی این این کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کی اسمارٹ منیجمنٹ کی جا رہی ہے، پاسداران انقلاب نے کہا کہ اس منصوبے کی ایک اہم شق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کا مسلسل ’’اسمارٹ منیجمنٹ‘‘ ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تسلیم کیا کہ یہ آبنائے ’’ایران کے کنٹرول میں‘‘ رہے گی۔بیان کے مطابق، 2 آئل ٹینکرز جن کے ایرانی ملکیت ہونے کی تصدیق کی گئی، دن کے آغاز میں آبنائے سے گزرے، اور چین کے ایک بیڑے کا بھی ایک ٹینکر محفوظ طریقے سے گزر گیا۔ ایک جہاز، جو رات 10 بجے عبور کرنے والا تھا، نے آبنائے کے قریب اپنا رخ بدل دیا اور واپس لوٹ گیا۔پاسداران نے کہا کہ بعد میں مزید ٹینکرز کا گزر نہیں ہوا اور اسرائیل کے لبنان پر بڑے حملے کے چند منٹ بعد ’’تمام جہاز رانی‘‘ روک دی گئی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ حملہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔