واشنگٹن(9 اپریل 2026): امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بعض نیٹو ملکوں کو سزا دینے پر غور کر رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں انہوں نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق صدر ٹرمپ ان ممالک کو سزا دینے کے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں جنہوں نے جنگ میں خاطر خواہ حصہ نہیں لیا۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت ان نیٹو ارکان کو سزا دی جائے گی جنہوں نے جنگ میں امریکی خواہش کے مطابق تعاون نہیں کیا۔وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ اس سزا میں ناراض ممالک سے امریکی فوجیوں کو نکال کر ان ممالک میں تعینات کرنا شامل ہے جنہوں نے جنگ میں امریکا کی مدد کی جبکہ اسپین یا جرمنی میں امریکی اڈے بند کرنا بھی منصوبے میں شامل ہوسکتا ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںیاد رہے کہ بدھ کی شام اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا تھا کہ جب ہمیں ضرورت تھی تو نیٹو وہاں موجود نہیں تھا، اور اگر ہمیں دوبارہ ضرورت پڑی تو وہ تب بھی نہیں ہوں گے، گرین لینڈ کو یاد کریں، برف کا وہ بڑا اور بدانتظام ٹکڑا۔اس سے قبل بدھ کو صدر ٹرمپ نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے ملاقات کی۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے مطابق ٹرمپ کا ارادہ تھا کہ وہ روٹے کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے اپنی مایوسیوں پر انتہائی واضح اور دو ٹوک بات چیت کریں۔لیکن ملاقات سے قبل ایک بریفنگ میں لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نیٹو سے علیحدگی اختیار کرنے پر بحث کر چکے ہیں۔ انہوں نے صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا نیٹو کا امتحان لیا گیا اور وہ ناکام رہے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت یورپ میں تقریباً 84,000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے ابھی تک مخصوص ممالک کا نام نہیں لیا، لیکن اسپین، اٹلی اور فرانس ممکنہ نشانے پر ہو سکتے ہیں۔وال اسٹریٹ کے مطابق اسپین نے نہ صرف دفاعی بجٹ بڑھانے سے انکار کیا بلکہ ایران پر حملوں کے لیے اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت بھی نہیں دی۔ اٹلی نے سسلی میں اپنے فضائی اڈے کا استعمال روکا، جبکہ فرانس نے صرف اس شرط پر اڈہ استعمال کرنے دیا کہ وہاں وہ طیارے نہیں اتریں گے جو ایران پر حملوں کے لیے جا رہے ہوں۔