اسلام آباد (13 اپریل 2026): سعودی عرب میں ملازمت کے لیے جانے والے خواہشمند غیرملکیوں کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد کے مطابق سعودی لیبر لاء کے تحت چھٹیوں اور غیر حاضری سے متعلق نئے قواعد نافذ کر دیے گئے ہیں، جن کا اطلاق تمام غیر ملکی کارکنان پر ہوگا۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں ملازمت کے لیے جانے والے افراد کی عمر کم از کم 21 برس ہونا لازمی ہے، جبکہ روزگار کے خواہش مند افراد کو معاہدے کی تمام شرائط پوری کرنا ہوں گی۔نئے قانون کے مطابق اگر کوئی ملازم سالانہ چھٹی کے بعد مقررہ وقت پر واپس نہیں آتا تو اسے غیر حاضر تصور کیا جائے گا۔مزید یہ کہ اگر کوئی کارکن مسلسل 30 دن یا وقفے وقفے سے 60 دن تک بلا اطلاع غیر حاضر رہے تو اس کا ملازمت کا معاہدہ ختم کیا جا سکتا ہے۔بیورو حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے لیے نظم و ضبط کو یقینی بنانا اور لیبر قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہے۔پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سعودی عرب روانگی سے قبل تمام قانونی تقاضے مکمل کریں اور نئی پالیسی سے مکمل آگاہی حاصل کریں تاکہ بعد میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مزید پڑھیں : سعودی عرب میں اقامہ اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ہوشیارواضح رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی عرب میں اقامہ اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سعودی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ (جوازات) نے انتظامی کمیٹیوں کے ذریعے ایک ماہ کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر سیکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی پر 15 ہزار 200 فیصلے جاری کیے ہیں۔ایس پی اے کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سعودی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کی گئی ہے۔ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ خلاف ورزیوں پر قید، جرمانہ اور بے دخلی کی سزائیں شامل ہیں۔