امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ 28 فروری سے جاری جنگ عارضی جنگ بندی کے باعث فی الحال 2 ہفتے کے لیے روک دی گئی ہے۔ اس جنگ بندی کا دنیا کے بیشتر ممالک نے استقبال کیا ہے۔ اب ہندوستان کا بھی جنگ بندی پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ ہندوستان نے اس فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ خطے میں مستقل امن قائم کرنے کی سمت میں اہم قدم ثابت ہوگا۔امریکہ ۔اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ اور مستقبل کی ضمانت پر ہوگی جنگ بندی، مودی سے گفتگو میں ایرانی صدر نے رکھی شرطMinistry of External Affairs says, "We welcome the ceasefire reached and hope that it will lead to a lasting peace in West Asia. As we have continuously advocated earlier, de-escalation, dialogue and diplomacy are essential to bring an early end to the ongoing conflict. The… pic.twitter.com/p4QDf17oEI— ANI (@ANI) April 8, 2026وزارت خارجہ نے بدھ (8 اپریل) کو اپنے آفیشل بیان میں کہا کہ ’’ہم جنگ بندی کا استقبال کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس سے مغربی ایشیا میں مستقل امن قائم ہوگا۔‘‘ وزارت نے یہ بھی کہا کہ ’’ہندوستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ کسی بھی جنگ کا حل صرف کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔‘‘وزارت خارجہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے آگے لکھا کہ ’’طویل وقت سے جاری اس جنگ نے عام لوگوں کو شدید تکلیف پہنچایا ہے، عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور کاروباری نیٹورک کو متاثر کیا ہے۔‘‘ حکومت نے بیان میں ’آبنائے ہرمز‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم امید کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں بلا تعطل جہاز رانی اور عالمی تجارت جاری رہے گی۔‘‘جنگ کی آگ میں جھلستے بچے! 1100 سے زائد معصوم جاں بحق یا زخمی، یونیسیف نے جاری کی رپورٹقابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جنگ جاری تھی۔ یہ جنگ تب شروع ہوئی تھی جب 28 فروری کو امریکہ-اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فوجی حملے کیے تھے، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی بڑے لیڈران اور افسران کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ایران نے جوابی حملہ کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود امریکی ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ کا اثر دنیا کے تمام ممالک پر پڑا ہے۔