ہماچل پردیش میں سبکدوش ملازمین کی دوبارہ تقرری پر لگی روک، سکھو حکومت کا سخت فیصلہ

Wait 5 sec.

ہماچل پردیش حکومت نے سبکدوش ہو چکے ملازمین کو دوبارہ ملازمت میں رکھنے کی رسم پر سخت رخ اختیار کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے سبھی محکموں میں ایکسٹینشن، ری-ایمپلائمنٹ اور ری-انگیجمنٹ پر روک لگا دی ہے۔ حکومت نے 2 اپریل کو سرکاری میڈیکل کالجوں میں ریٹائرڈ پروفیسرز کو دوبارہ تقرر کرنے کا فیصلہ لیا تھا، جس میں انھیں 2.50 لاکھ روپے سے زیادہ ماہانہ تنخواہ دینے کا التزام رکھا گیا، حالانکہ حکومت کے نئے حکم سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ دیگر محکموں میں ایسی تجاویز اب آگے نہیں بڑھائی جائیں گی۔محکمہ پرسونل کے ذریعہ جاری ’انتہائی ضروری‘ ہدایات میں جوائنٹ سکریٹری (پرسونل) نیرج کمار نے سبھی ایڈمنسٹریٹو سکریٹریز کو سخت ہدایت دی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی تقرری تجویز کو نہ تو آگے بڑھائیں اور نہ ہی اسے قبول کریں۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ ایسے معاملوں پر کسی بھی سطح پر غور نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی جن افسران کو ایکسٹینش یا ری-ایمپلائمنٹ دیا گیا ہے، انھیں منظور شدہ مدت پوری ہونے کے بعد از خود سبکدوش مانا جائے گا۔ بغیر رسمی اجازت کے اب خدمت جاری رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔جاری کردہ حکم میں سبھی محکموں کو دی گئی ہدایت کی تعمیل یقینی بنانے کو کہا گیا ہے۔ اسے حکومت کی ایڈمنسٹریٹو شفافیت اور سختی کی سمت میں بڑا قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ طویل مدت سے ریٹائرڈ افسران کو بار بار سروس توسیع دینے کے عمل پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ اس کی تنقید ’بیک ڈور انٹری‘ کا ذریعہ بتاتے ہوئے ہوتی رہی ہے، جس سے نئی بھرتی کے مواقع متاثر ہوتے ہیں اور غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت نے محکموں کو ایسے معاملوں کا تجزیہ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے، خصوصاً ان ملازمین کے معاملے میں جن کے طریقۂ کار یا ایمانداری کو لے کر شکایتیں ہیں۔ ضرورت پڑنے پر ایسی سروسز کو ختم کرنے کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ حکومت کے اس حکم کے بعد اب مختلف محکموں میں چل رہے ایکسٹینشن اور ری-ایمپلائمنٹ کے معاملوں کا تجزیہ تیز ہونے کا امکان ہے۔