اٹلی کے سابق وزیراعظم کا پاکستان کو نوبل امن انعام دینے کا مطالبہ

Wait 5 sec.

روم(8 اپریل 2026): امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کے کلیدی کردار پر عالمی سطح پر اسے سراہا جا رہا ہے اور سابق اطالوی وزیراعظم پاؤلو جینٹیلونی سمیت متعدد عالمی شخصیات نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو نوبل امن انعام دینے کی تجویز پیش کر دی ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے پورے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا تھا، اس کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔عالمی رہنماؤں اور مبصرین نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے کردار کو خصوصی طور پر اجاگر کیا ہے، جن کی مربوط کوششوں سے لاکھوں جانیں بچانے اور خطے کو بڑی تباہی سے نکالنے میں مدد ملی۔اٹلی کے سابق وزیراعظم اور یورپی یونین کے کمشنر پاؤلو جینٹیلونی نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے جس طرح عالمی امن کے لیے ثالث کا کردار ادا کیا، اس پر وہ شاید نوبل امن انعام کا مستحق ہے۔Forse merita il Nobel. Il Pakistan.— Paolo Gentiloni (@PaoloGentiloni) April 8, 2026رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان یہ جنگ بندی وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر عمل میں آئی، جس کے بعد دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ ہوئے۔عالمی برادری کی جانب سے ان سفارتی کوششوں کی ستائش کا سلسلہ جاری ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس مداخلت نے نہ صرف کشیدگی کم کی بلکہ مستقبل میں مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔دنیا بھر کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کی سفارتی کامیابیوں سے پرتشدد خطوں میں امن کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیں