ترکیہ نے نیتن یاہو کو عہدِحاضر کا ہٹلر قرار دیدیا

Wait 5 sec.

ترکیہ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو عہدِحاضر کا ہٹلر قرار دے دیا۔ترک وزارت خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو ایران امریکا مذاکرات کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے نیتن یاہو کا مقصد خطے میں توسیع پسندانہ پالیسیاں جاری رکھنا ہے۔وزارت خارجہ نے کہا کہ نیتن یاہو ناکام ہوا تو اسے اسرائیل میں مقدمے اور سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ترک صدر پر اسرائیلی حکام نے بےبنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز ترک صدر رجب طیب ایردوان کو امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جنگ بندی سے متعلق ان کے حالیہ بیان پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل ایران اور اس کے علاقائی ہم نواؤں کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گا۔ہفتے کے روز نیتن یاہو نے ترک صدر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میری قیادت میں اسرائیل ایران کی دہشت گرد حکومت اور اس کے حواریوں کے خلاف لڑنا جاری رکھے گا، برخلاف ایردوان کے جو انہیں پناہ دیتے ہیں اور اپنے ہی کرد شہریوں کا قتل عام کرتے ہیں۔صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران ایردوان نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ کسی بھی صورت میں اس جنگ بندی پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے اور کہا کہ ترکیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا بھرپور تعاون فراہم کرے گا۔ترکیہ، جو اسرائیل کا سخت ترین ناقد ہے، مصر اور پاکستان کے ساتھ مل کر اس تنازع میں جنگ بندی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا حصہ رہا ہے۔