یورپی ملک میں رہائش کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر

Wait 5 sec.

(12 اپریل 2026): ترقی یافتہ ملکوں میں رہائش ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے یورپی ملک اسپین میں رہنے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آ گئی ہے۔یورپی ممالک دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار کیے جاتے ہیں، جہاں بنیادی شہری سہولتوں سمیت دیگر فوائد کے کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد وہاں رہائش اختیار کرنا چاہتی ہے۔ان ہی یورپی ممالک میں اسپین بھی شامل ہے، جس نے کچھ عرصہ قبل جائیداد کے ذریعہ رہائش حاصل کرنے والی ’’گولڈن ویزا‘‘ اسکیم متعارف کرائی تھی۔اس اسکیم کے تحت غیر ملکی شہری کم از کم پانچ لاکھ یورو کی پراپرٹی خرید کر اسپین میں رہنے کی اجازت حاصل کر سکتے تھے۔تاہم اب نئی خبر یہ ہے کہ اسپین نے اپنی اس پالیسی کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین مسلسل ان پروگراموں پر تنقید کر رہی ہے جن کے تحت سرمایہ کاری کے بدلے رہائش یا شہریت دی جاتی رہی ہے۔حالیہ قانون سازی کے تحت وہ راستہ بند کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے غیر ملکی جائیداد خرید کر اسپین میں رہنے کے اہل ہوتے تھے۔حکومت کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ ملک کے بڑے شہروں میں بڑھتا ہوا رہائشی دباؤ ہے۔ بارسلونا اور میڈرڈ جیسے شہری مراکز میں جائیداد کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ مقامی افراد کے لیے گھر خریدنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پہلے ہی رہائش کی قلت موجود تھی۔اگرچہ پراپرٹی کے ذریعے ویزا حاصل کرنے کا دروازہ بند کیا جا رہا ہے، لیکن اسپین غیر ملکیوں کے لیے دیگر مواقع برقرار رکھے ہوئے ہے۔اسپین کی توجہ اب ایسے افراد پر مرکوز ہے جو ملک کی معیشت میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ ڈیجیٹل نومیڈ ویزا، ماہر پیشہ ور افراد کے لیے خصوصی پروگرامز اور کاروباری افراد کے لیے انٹرپرینیور ویزا اس نئی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اسی طرح نان لوکریٹو ویزا بھی ان لوگوں کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کرتا ہے جو مالی طور پر خود کفیل ہیں۔ماہرین کے نزدیک یہ اقدام مستقبل میں مثبت تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف پراپرٹی مارکیٹ میں غیر حقیقی اضافہ کم ہوگا بلکہ مقامی آبادی کے لیے رہائشی سہولتیں بھی نسبتاً بہتر ہو سکیں گی۔ ساتھ ہی یہ پالیسی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسپین اب ایسی سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہا ہے جو معیشت میں حقیقی اور دیرپا بہتری لا سکے۔