بنگال میں انتخابی مہم کے دوران 43 ٹی ایم سی رہنماؤں کو این آئی اے کا نوٹس، 17 اپریل کو دہلی طلب

Wait 5 sec.

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ سے عین قبل قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے حکمراں پارٹی کے دو درجن سے زائد رہنماؤں کو نوٹس جاری کرکے دہلی طلب کرلیا ہے۔ ایسے وقت میں جب تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈرانتخابی مہم میں مصروف ہیں، جانچ ایجنسی کی تازہ کارروائی کی وجہ سے ریاست کے سیاسی درجہ حرارت میں شدت آگئی ہے۔ خبروں کے مطابق ڈیڑھ سال پرانے نندی گرام تشدد معاملے میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رہنماؤں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔نندی گرام میں ہوئے تشدد کے واقعات پر الیکشن کمیشن نے طلب کی رپورٹموصولہ اطلاعات کے مطابق این آئی اے نے نوٹس جاری کرکے ٹی ایم سی کے 43 لیڈروں کو طلب کیا ہے اور انہیں 17 اپریل کو دہلی میں جانچ ایجنسی کے ہیڈکوارٹر میں حاضر ہونے کے لیے کہا ہے۔ یہ مقدمہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل ہونے والے تشدد اور بمباری سے متعلق ہے۔ دسمبر 2024 میں نندی گرام کوآپریٹو انتخابات کے دوران ہوئے بڑے پیمانے پر تشدد کی تحقیقات کر رہی ہے۔نندی گرام بلاک 1 کے کنچن نگر دیدارالدین ودیا بھون پولنگ اسٹیشن پر بی جے پی اور ٹی ایم سی کے حامیوں کے درمیان ہوا تنازع  بمباری میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اس معاملے میں 43 لوگوں کے خلاف شکایت درج کی گئی تھی جس کی جانچ اب این آئی اے کو سونپی گئی ہے۔ تملوک تنظیمی ضلع کے سربراہ ٹی ایم سی لیڈر شیخ سفیان، ابو طاہر اور شنکو نائک سمیت کئی بااثر مقامی رہنما اس فہرست میں شامل ہیں۔مغربی بنگال میں ای ڈی کی بڑی کارروائی، غیر قانونی کال سنٹر معاملے میں سلی گوڑی-ہاوڑہ سمیت 10 مقامات پر چھاپےانتخابی موسم کے درمیان این آئی اے کی تازہ کارروائی نے مغربی بنگال کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ جوں جوں اسمبلی انتخابات قریب آرہے ہیں، بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ تملوک ضلع ٹی ایم سی کے صدر سوجیت رائے نے نوٹس پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے کے نوٹس کا مطالعہ کیا جا رہا ہے اور اس کے بعد پارٹی مناسب جواب جاری کرے گی۔