ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی حالت اب کیسی ہے؟ برطانوی میڈیا کا بڑا انکشاف

Wait 5 sec.

لندن (12 اپریل 2026): اسرائیلی حملے میں زخمی ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق برطانوی میڈیا نے بڑا انکشاف کر دیا ہے۔ایران کے نئے منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جو اپنے والد آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کا سبب بننے والے امریکا اور اسرائیل کے پہلے حملے میں ہی زخمی ہوئے تھے، ان کی صحت سے متعلق بڑی اپ ڈیٹ سامنے آئی ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے وہ زخم ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے ہیں جو فضائی حملے دوران ان کے چہرے اور پاؤں پر آئے تھے۔رپورٹ میں ان کے قریبی حلقے کے تین مصدقہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کا چہرہ اور ایک یا دونوں ٹانگیں متاثر ہوئی تھیں۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس تمام احوال سے آگاہ لوگوں نے بتایا کہ 56 سالہ رہنما صحت یاب ہو رہے ہیں۔ ان کی ذہنی صحت بہترین اور وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سینیئر حکام سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں جبکہ واشنگٹن کے ساتھ جنگ اور مذاکرات سمیت اہم مسائل پر فیصلہ سازی میں مصروف ہیں۔مجبتیٰ خامنہ ای کے ٹھکانے، حالت اور حکمرانی کی صلاحیت کے حوالے سے معلومات اب بھی بڑی حد تک عوام کے لیے معمہ بنی ہوئی ہیں۔فضائی حملے اور آٹھ مارچ کو انہیں والد کی جگہ سپریم لیڈر بنائے جانے کے بعد ان کی کوئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ سامنے نہیں آئی ہے۔ایران جنگ اور امن مذاکرات سے متعلق تمام خبریںخبر رساں ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں ایران مشن نے ان کی صحت اور ان کے منظرعام پر نہ آنے کی وجہ سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔