(12 اپریل 2026): آج کل لوگ اپنا نا قابل استعمال اور بے کار پرانا موبائل کباڑی والے کو بیچ دیتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے لیے یہ انتباہ ہے۔موبائل فون جس کا عام افراد استعمال ترک کر چکے ہو یا وہ کسی خرابی کے باعث نا قابل استعمال ہو چکا ہو، تو لوگ اس کو کباڑی کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں۔لیکن ایسا کرنا موبائل فروخت کرنے والوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ ان موبائل فونز کو سائبر کرمنلز استعمال کرتے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق سائبر کرمنلز اب بیکار اور نا قابل استعمال موبائل فونز کو اپنے جرائم کا ہتھیار بنا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کانپور پولیس نے حال ہی میں ایسے 20 سائبر مجرمان کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے پاس سے 17 اینڈرائیڈ فون، 4 کی پیڈ فون اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائس برآمد ہوئے ہیں۔تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ان ڈیوائس میں سے بیشتر پرانے اور کباڑ موبائلوں کے پارٹس سے تیار کیے گئے تھے۔ یہی نہیں ان فون کی میموری سے پرانا ڈیٹا بھی ریکور کیا جا سکتا تھا، جس سے عام لوگوں کی ذاتی معلومات شدید خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ محلوں میں پھیری لگا کر پرانے سامان کے بدلے برتن یا دیگر چیزیں دینے والے کباڑی ان خراب موبائل فون کو اکٹھا کرتے ہیں۔ بعد میں یہ موبائل فون ایک منظم سائبر فراڈ گروہ تک پہنچائے جاتے ہیں۔پولیس کے مطابق یہ ٹھگ ان کباڑ فون سے کام کے پارٹس نکال کر کسٹمائزڈ موبائل تیار کرتے ہیں، جن کا استعمال سائبر فراڈ میں کیا جاتا ہے۔پولیس افسران کے مطابق ان کسٹمائزڈ فون کی تیاری کے بعد کچھ ایجنٹ انہیں سائبر ٹھگوں تک پہنچاتے تھے۔ ان کی قیمت 5 ہزار سے 50 ہزار روپے تک وصول کی جاتی تھی۔ ٹھگ ان فون کا استعمال کر لوگوں کو کال، میسج یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے نشانہ بناتے تھے۔اے ڈی سی پی سمت رامٹیکے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پرانے موبائل پھیری والوں یا کباڑیوں کو دینے سے بچیں یا پھر اس حوالے سے انتہائی احتیاط برتیں۔