اسرائیلی میزائل کا نشانہ بننے والی ایرانی یونیورسٹی تباہی کے بعد بحال

Wait 5 sec.

تہران : ایران جنگ کے ابتدائی ایام میں تہران میں واقع ممتاز شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کو امریکی و اسرائیلی مشترکہ فضائی حملوں میں نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا تھا جسے بحال کردیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق اس حملے میں یونیورسٹی کی لیبارٹریوں، عمارتوں، گیس اسٹیشن، مسجد اور ڈیٹا سینٹر کو بھی شدید نقصان پہنچا، اسرائیلی فوج نے اسے ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک ریسرچ سینٹر قرار دیا تھا۔ایران سے ڈاکٹر سید حسن رضا نقوی کی رپورٹ کے مطابق شریف یونیورسٹی ملک کی سائنسی اور تحقیقی ترقی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔اس یونیورسٹی میں صرف ایرانی نہیں بلکہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک سے طلبہ آ کر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ڈیپارٹمنٹس اور یونیورسٹی نے نہ صرف سیٹلائٹ بلکہ ملکی انڈسٹری کی ترقی میں بھی اپنا بڑا حصہ ڈالا ہے۔دنیا کی ممتاز جامعات میں شمار ہونے والی اس یونیورسٹی کے آئی ٹی، الیکٹریکل انجینئرنگ اور فلسفہ کے شعبے خاص طور پر حملے کی زد میں آئے۔حملے کے بعد یونیورسٹی کے آئی ٹی شعبے کو شدید نقصان پہنچا، تاہم طلبہ و طالبات نے غیر معمولی عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن رات محنت سے انٹرنیٹ نظام، سرورز اور ڈیجیٹل ڈیٹا بحال کرلیا۔اس یونیورسٹی کو نہ صرف فعال کیا گیا بلکہ بحالی کے بعد آن لائن کلاسز کا دوبارہ آغاز بھی کر دیا گیا ہے، جو تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف تعلیمی اداروں پر حملوں کے خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ایرانی طلبہ کی ثابت قدمی اور علمی وابستگی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔