اسرائیلی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان میں ایمبولنسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر حملے

Wait 5 sec.

بیروت(10 اپریل 2026): لبنان میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے جہاں تازہ حملوں میں طبی عملے اور امدادی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اسرائیل نے جنگ بندی کے مطالبات کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے۔لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے راس العین کے علاقے میں ایمبولنسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر بمباری کی، جس سے امدادی کاموں میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ اسرائیلی ہٹ دھرمی کے باعث خطے میں انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔دوسری جانب، آئرلینڈ کے وزیر خارجہ یوسف رگی نے لبنانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔آئرش وزیر خارجہ نے کہا کہ لبنان پر حملے ناقابل قبول ہیں اور عالمی برادری کو انہیں فوری بند کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ طبی اور امدادی ٹیموں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، لہٰذا جنگی کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںاسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے نام لیے بغیر امریکا کو خبردار کیاکہ وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ایران کا اتحادی لبنان سمیت تمام مزاحمتی محاذ جنگ بندی کا کبھی علیحدہ نہ ہونے والا حصہ ہے اور یہی 10 نکاتی تجویز کا پہلا نکتہ ہے۔یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے کہا ہے کہ لبنان ایران جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور وہ ایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز  کو بھی مسترد کرچکے ہیں اور نئی 10 نکاتی تجاویز پر ایران اور پاکستان سے بات چیت ہورہی ہے تاہم امریکا نے نئی تجاویز کی وضاحت نہیں کی۔