سعودی عرب: تیل و گیس کی متعدد تنصیبات پر آپریشن روک دیا گیا

Wait 5 sec.

ریاض (10 اپریل 2026): ایران کے حملوں میں توانائی کی اہم تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے بعد مملکت میں کئی تنصیابت پر کام روک دیا گیا ہے۔سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے سعودی وزارت توانائی کے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حالیہ جنگ میں ایران کے حملوں کے بعد مملکت میں توانائی کی اہم تنصیبات کو کو پہنچنے والے نقصان کے بعد کئی تنصیبات پر کام روک دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق جن تنصیبات پر کام روکا گیا ہے، ان میں تیل و گیس کی پیداوار، ٹرانسپورٹیشن اور ریفائننگ کے مراکز، پیٹرو کیمیکل کی تنصیبات کے علاوہ ریاض، الشرقیہ ریجن اور ینبع انڈسٹریل سٹی میں الیکڑک سٹی سیکٹر شامل ہے۔نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں سعودی توانائی کمپنی کے ایک سعودی اہلکار جاں بحق جب کہ سات زخمی ہوئے۔ توانائی سیکٹر میں اہم تنصیابت پر متعدد آپریشنل سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ جب کہ مملکت کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں یومیہ 6 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہوئی ہے۔ان حملوں میں عالمی مارکیٹ کو سپلائی کا مرکزی ذریعہ سمجھی جانے والی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ایک پمپنگ اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اس لائن کے ذریعے یومیہ تقریبا 7 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔اسی طرح منیفہ آئل فیلڈ کے پیداواری مرکز پر بھی حملہ ہوا، جس سے یومیہ تقریبا 3 لاکھ بیرل پیداوار میں کمی واقع ہوئی، جبکہ اس سے قبل خریص آئل فیلڈ بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے یومیہ 3 لاکھ بیرل پیداوار متاثر ہوئی تھی۔حملوں کا دائرہ بڑی ریفائنریوں تک بھی پھیل گیا، جن میں الجبیل، راس تنورہ ریفائنری، ینبع اور ریاض ریفائنری شامل ہیں، جس کے باعث عالمی مارکیٹوں کو ریفائن مصنوعات کی برآمدات براہ راست متاثر ہوئی ہیں۔ایران اسرائیل جنگ سے متعلق تمام خبریںاس کے علاوہ الجعیمہ میں گیس پراسیسنگ کی تنصیبات آگ لگنے کے واقعات پیش آئے، جس سے ایل پی جی اور قدرتی گیس کی برآمدات متاثر ہوئیں۔