’لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ایران مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں آئے گا‘

Wait 5 sec.

امریکی اخبار نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کو لبنان میں اسرائیلی حملے نہ ہونے سے مشروط کر دیا۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران نے اسلام آباد مذاکرات کےلئے ثالثوں کو اپنی شرط سے آگاہ کر دیا ہے اور بتایا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ایران مذاکرات کیلئے اسلام آباد نہیں آئے گا۔وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ ایران سےجنگ بندی معاہدہ ہونے پر اسرائیل خوش نہیں تھا کیونکہ اسرائیل باضابطہ طور پر امریکا ایران مذاکرات کا حصہ نہیں تھا۔جنگ بندی معاہدہ لبنان میں اسرائیل کے تباہ کن حملوں پر ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو جنگ بندی معاہدے سے نکل جائیں گے۔ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک باخبر ایرانی ذریعے نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان پر حملے جاری رکھ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا رہا تو ایران عارضی معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے باخبر ذریعے نے کہا کہ صیہونی حکومت کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں کے پیش نظر ایران اس وقت معاہدے سے نکلنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔ ایرانی ذریعے کے مطابق تمام محاذوں بشمول لبنان میں اسلامی مزاحمت کے خلاف کارروائیاں روکنا جنگ بندی معاہدے کا حصہ تھا جسے امریکا نے قبول کیا تھا لیکن اسرائیل نے آج صبح بیروت پر وحشیانہ حملے کر کے کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ایرانی منصوبہ بندی لبنان میں صیہونی حکومت کے حملوں کے خلاف ایران اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے رہا ہے۔یہ دعویٰ ایرانی فارس نیوز ایجنسی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کیا۔ اس میں ایک باخبر سکیورٹی و فوجی ذریعے کا حوالہ دیا گیا جس نے بتایا کہ ایران مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملے کرنے کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ذریعے نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان اور وہاں کی اسلامی مزاحمت کے خلاف عارضی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد ایران مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کے خلاف جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی مکمل کر رہا ہے۔