امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی عالمی سطح پر تعریف ہو رہی ہے۔ ہندوستان میں بھی اس تعلق سے خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے عارضی جنگ بندی کے بعد مشرق وسطیٰ میں امن کی امید ظاہر کی ہے۔ اس درمیان کانگریس کا ایک ایسا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں مرکز کی مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ مودی حکومت پر حملہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ اس جنگ بندی میں پاکستان نے فعال کردار ادا کیا ہے۔’امید ہے مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوگا‘، امریکہ-ایران جنگ بندی کا ہندوستان نے کیا استقبالکانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں پارٹی ترجمان سپریا شرینیت نے کچھ فکر انگیز باتیں سامنے رکھی ہیں۔ ویڈیو میں وہ کہتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں کہ ’’پوری دنیا 2 ہفتہ کی جنگ بندی کا استقبال کرتا ہے۔ اس دنیا کو جنگ نہیں، امن چاہیے۔ لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان 2 ہفتہ کی اس جنگ بندی کو لانے میں پاکستان کا فعال کردار ہمارے لیے فکر کا باعث ہے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’ایک ایسا ملک، جو دہشت گردی کو پناہ دیتا ہے اور معاشی طور سے دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے، آج گلوبل پالیٹکس کا اہم کھلاڑی بن گیا ہے، جبکہ ہندوستان اس پورے پلیٹ فارم سے غائب رہا ہے۔‘‘کانگریس کا کہنا ہے کہ اسے ایک معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز کرنا بے وقوفی ہوگی۔ سپریا کہتی ہیں کہ ’’یہ کوئی چھوٹی موٹی بات نہیں ہے۔ ہندوستان، جو صدیوں سے دنیا کا اخلاقی قطب رہا ہے، آج الگ تھلگ ہے۔ ہم نے عالمی پلیٹ فارم پر جو اسٹریٹجک جگہ چھوڑی، اس پر پاکستان نے قبضہ کر لیا۔ اس درمیان ہندوستان برسرعام اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ کھڑا رہا۔ ہماری حکومت نے اتنی اخلاقی ہمت بھی نہیں دکھائی کہ امریکی صدر کے ایران کو نیوکلیائی بم سے اڑا دینے سے متعلق دھمکی کی مذمت کر سکیں۔‘‘पूरा विश्व दो हफ्ते के युद्धविराम का स्वागत करता है। इस दुनिया को युद्ध नहीं, शांति चाहिए।लेकिन ईरान और अमेरिका के बीच दो हफ्ते के इस युद्धविराम को लाने में पाकिस्तान की सक्रिय भूमिका हमारे लिए चिंता का विषय है।एक ऐसा देश, जो आतंक को पनाह देता है और आर्थिक रूप से दिवालिया… pic.twitter.com/W8ty8wlwLT— Congress (@INCIndia) April 8, 2026سپریا شرینیت کا کہنا ہے کہ ’’ایک تاریخی موڑ پر ہندوستان نے تاریخ کے غلط طرف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان نے ایک کمپرومائزڈ وزیر اعظم کی وجہ سے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ جب دنیا کو ہماری بہادری اور انصاف کی ضرورت تھی، تب وزیر اعظم مودی نے بزدلی کا انتخاب کیا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’ہندوستان کو وزیر اعظم بنے ایک ایسے شخص نے مایوس کیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ تاریخ نریندر مودی کو کبھی معاف نہیں کرے گا، کیونکہ انھوں نے پاکستان کو ہندوستان کی قیمت پر عالمی پلیٹ فارم پر یہ کردار نبھانے دیا۔‘‘