متھرا کے حساس اور طویل عرصے سے جاری شاہی عیدگاہ مسجد–کرشن جنم بھومی تنازعہ پر آج الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک اہم سماعت ہونے جا رہی ہے، جس پر فریقین سمیت عوامی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ یہ سماعت دوپہر دو بجے مقرر کی گئی ہے، جس میں مندر اور مسجد دونوں فریق اپنے اپنے دلائل پیش کریں گے۔یہ معاملہ اکتوبر 2023 سے عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور اب تک اس سے متعلق تقریباً 18 مقدمات داخل کیے جا چکے ہیں۔ ہندو فریق کی جانب سے عدالت میں یہ مانگ رکھی گئی ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد کو مبینہ طور پر تجاوز قرار دیا جائے اور پوری زمین مندر فریق کے حوالے کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کرشن جنم بھومی مندر کی از سر نو تعمیر اور مستقل حکمِ امتناعی جاری کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے سروے معاملہ میں سماعت ملتوی، سپریم کورٹ نے تین ہفتے بعد اگلی تاریخ مقرر کیاس کیس کی سماعت جسٹس اوینیش سکسینہ کی سنگل بینچ کر رہی ہے۔ آج کی کارروائی میں مختلف عرضداشتوں کے نپٹارے، ترمیم شدہ درخواستوں پر جواب داخل کرنے اور دیگر قانونی نکات پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ ہندو فریق کے وکیل کے مطابق یہ سماعت خاصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ مقدمہ نمبر تین میں آثار قدیمہ کا محکمہ بھی اپنا جواب پیش کر سکتا ہے۔ہندو فریق کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سن 1670 میں مغل بادشاہ اورنگزیب کے حکم پر یہاں موجود مندر کو منہدم کر کے مسجد تعمیر کی گئی تھی، اور اس دوران بھگوان کرشن کی مورتی کو آگرہ منتقل کیا گیا تھا۔ دوسری جانب مسجد فریق ان دعوؤں کی تردید کرتا آیا ہے اور اپنے قانونی موقف پر قائم ہے۔کمال مولا مسجد-بھوج شالہ معاملہ: مسلم فریق نے ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنجوکیل نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ مسجد فریق کی طرف سے بار بار نئی درخواستیں داخل کر کے مقدمے کو طول دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے کارروائی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے میں ایک واضح وقت مقرر کیا جائے تاکہ سماعت تیز ہو اور فیصلہ جلد سامنے آ سکے۔یہ تنازعہ صرف قانونی نوعیت کا نہیں بلکہ مذہبی اور تاریخی پہلو بھی رکھتا ہے، جس کے باعث اس کی حساسیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں عدالت کی ہر پیش رفت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے اور آج کی سماعت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔