تہران (10 اپریل 2026): 15 روزہ جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھل چکی ہے تاہم ایران نے جنگ بندی معاہدے میں ایک دن میں گزرنے والے جہازوں کی حد مقرر کی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ایک دن میں 15 سے زیادہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔رپورٹ کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع نے کہا کہ ایران ایک دن میں 15 سے زیادہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت گزرنے کی اجازت نہیں دے گا جس پر اس نے امریکا کے ساتھ اتفاق کیا تھا۔پاکستان کی درخواست پر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ ایران آبنائے ہُرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھول دے گا۔آبنائے ہُرمز دنیا میں توانائی کے شعبے کے لیے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان صرف 34 کلومیٹر (21 میل) پانی کی چوڑی پٹی ہے، جو خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب (بحرِہند) ملاتی ہے۔امن کے زمانے میں اس بحری راستے سے روزانہ قریباً دو کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے جو عالمی کھپت کا قریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ خاص طور پر قطر سے بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی اس آبنائے کے ذریعے ہی ایشیائی منڈیوں کو بھیجی جاتی ہے۔ایران جنگ سے متعلق تمام خبریںمشرق وسطیٰ میں جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی۔ ایران پر امریکا اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جس کے بعد عالمی سطح پر توانائی بحران پیدا ہوا اور خام تیل کی قیمتیں بڑھیں۔