گیا: بھارت میں بہار کے ضلع گیا میں واقع تین دیہات باغمارا، سکھرادیہ اور بگبیدا تقریباً دو صدیوں سے ایک منفرد روایت پر قائم ہیں، جہاں شادیوں میں جہیز لینا یا دینا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ روایت نہ صرف آج بھی برقرار ہے بلکہ اس کے باعث ان دیہات میں جہیز سے متعلق کوئی تنازع یا کیس دہائیوں سے رپورٹ نہیں ہوا۔مقامی روایت کے مطابق اس اصول کی بنیاد ایک قدیم واقعہ پر پڑی، جب ایک شادی کے دوران معمولی رقم پر جھگڑا ہوا۔ اس کے بعد بزرگ نے فیصلہ کیا کہ آئندہ کوئی بھی فرد جہیز نہ دے گا اور نہ لے گا۔ تب سے یہ اصول نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔گاؤں کے سابق سربراہ رام چندر سنگھ بھوکتا کے مطابق اگر کوئی اس روایت کی خلاف ورزی کرے تو پنچایت سخت کارروائی کرتی ہے، جس میں سماجی بائیکاٹ بھی شامل ہوتا ہے۔ اس سخت سماجی نگرانی نے اس روایت کو مضبوطی سے قائم رکھا ہے۔مقامی پولیس حکام کے مطابق ان دیہات سے جہیز سے متعلق کوئی کیس گزشتہ کئی دہائیوں میں سامنے نہیں آیا۔ گیا سے تقریباً 75 کلومیٹر دور واقع سکھرادیہ گاؤں، جہاں تقریباً 70 گھرانے اور ایک ہزار کی آبادی ہے، اس روایت کی روشن مثال بن چکا ہے۔ دیہات میں شادیوں کو سادہ اور باوقار طریقے سے انجام دیا جاتا ہے۔پُراسرار بیماری سے 5 بچوں کی موت، علاقے میں خوف کا ماحولمقامی افراد کے مطابق تعلیم نے بھی اس مثبت تبدیلی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نوجوان نسل جہیز جیسی سماجی برائی کو شعوری طور پر مسترد کر رہی ہے۔اگرچہ پورے بہار میں جہیز سے متعلق حالات تشویشناک ہیں جہاں 2019 سے 2023 کے درمیان ہزاروں کیسز اور اموات رپورٹ ہوئیں لیکن یہ تین دیہات ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آئے ہیں۔