واشنگٹن (09 مارچ 2026): امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی جانب سے پہلی بار پیش کیے گئے 10 نکات ایسے محسوس ہوئے جیسے یہ چیٹ جی پی ٹی سے تیار کیے گئے ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اس ہفتے شروع ہو رہے ہیں اور ایران کی جانب سے دس نکاتی تجاویز سامنے آئی ہیں۔جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنی 10 نکاتی تجاویز کے تین مختلف ورژن بھیجے، جن میں پہلا ’’شاید چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے لکھا گیا تھا۔‘‘ وینس نے کہا کہ ایرانی تجاویز کے یہ تین مختلف ورژن یہ واضح نہیں ہونے دے رہے کہ مذاکرات کی بنیاد کس پر بن رہی ہے۔انھوں نے ہنگری سے روانگی کے دوران کہا ’’پہلی 10 نکاتی تجویز جو پیش کی گئی تھی، اور ہمیں لگتا ہے، صاف لفظوں میں، کہ شاید چیٹ جی پی ٹی نے لکھی تھی، وہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو بھیجی گئی، لیکن فوراً ہی رد کر دی گئی اور کوڑے میں پھینک دی گئی۔‘‘اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںوینس نے مزید کہا ’’دوسری 10 نکاتی تجویز زیادہ معقول تھی اور ہمارے درمیان، پاکستانیوں کے درمیان اور ایرانیوں کے درمیان کچھ بات چیت کی بنیاد پر تیار کی گئی تھی۔ یہ وہی 10 نکاتی تجویز ہے جس کا حوالہ صدر نے کل اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر بھی دیا تھا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ تجویز کا تیسرا ورژن پہلے سے بھی زیادہ ’’انتہا پسند‘‘ تھا۔وینس نے ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ٹوئٹ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قالیباف نے مذاکرات سے پہلے کچھ پوائنٹس پر عمل نہ ہونے کی بات کی، لیکن میں قالیباف سے کہوں گا کہ اور بھی متعدد پوائنٹس ہیں جن پر عمل کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ 10 نکات اور 15 نکات موجود ہیں، 3 نکات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔نائب صدر نے کہا ایرانی اسپیکر قالیباف نے کچھ چیزیں ایسی کہیں جو سمجھ نہیں آئیں، میں سوچتا ہوں کہ ایرانی اسپیکر قالیباف کتنی اچھی انگلش سمجھ لیتے ہوں گے، ایرانی اسپیکر قالیباف نے جو کچھ کہا اس کا کوئی سینس نہیں بنتا۔جے ڈی وینس نے لبنان کے حوالے سے کہا کہ اگر ایران چاہتا ہے کہ لبنان کی وجہ سے معاہدہ ٹوٹ جائے تو یہ ان کا انتخاب ہوگا۔ انھوں نے واضح کیا کہ سیز فائر میں لبنان کو شامل کرنے کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے اور نہ ہم نے، نہ اسرائیلیوں نے کہا کہ لبنان کو سیز فائر میں شامل کیا جائے گا۔ مذاکرات میں امریکا مضبوط ہاتھ کے ساتھ کھیلنے کا عزم رکھتا ہے۔نائب صدر کا کہنا تھا کہ سیز فائر کے اعلان کے بعد ایران نے میزائل فائر کیے، جس کا اسرائیل نے جواب دیا، اور خلیجی ممالک نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ سیز فائر ایسے ہی پیچیدہ ہوتے ہیں اور شروع میں مسائل پیدا ہونا معمول کی بات ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکا اور اتحادی واضح ہیں کہ بمباری روکیں گے اور ایران کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔