خوشخبری، لاعلاج بیماری ’ٹائپ-1 ذیابیطس‘ اب صرف ایک انجکشن سے ہو جائے گی ٹھیک!

Wait 5 sec.

ذیابیطس کی بیماری سبھی عمر کے لوگوں میں عام ہوتی جا رہی ہے۔ ذیابیطس کی 4 قسمیں ہوتی ہیں، جن میں ’ٹائپ-1‘ سے متعلق ایک اچھی خبر سامنے آ رہی ہے۔ ٹائپ-1 ذیابیطس بچوں میں سب سے زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ بیماری تب ہوتی ہے جب جسم کا مدافعتی نظام ہی پینکریاز میں انسولن بنانے والی خلیات پر حملہ کر کے انھیں تباہ کر دیتا ہے۔ اس سے شگر کنٹرول رکھنے والے ہارمون انسولن کا پروڈکشن نہیں ہو پاتا اور مریضوں کو زندگی بھر کے لیے انسولن کا انجکشن لینا پڑتا ہے۔چونکہ اس بیماری کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، اس لیے انسولن انجکشن اور دواؤں کے ساتھ شگر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ روزانہ انجکشن، بار بار بلڈ شگر کی جانچ اور کھانے پینے پر سخت کنٹرول، یہ سب ایسے مریضوں کی معمولات کا اہم حصہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اب سائنس کی دنیا سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے، جس نے امید کی نئی روشنی پیدا کر دی ہے۔ سائنسدانوں نے پہلی بار ٹائپ-1 ذیابیطس کے ممکنہ علاج کی سمت میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ نئی تحقیق میں ایسے طریقے دریافت کیے گئے ہیں جو جسم میں انسولن کو دوبارہ فعال کر سکتے ہیں۔ اگر یہ کوشش وسیع سطح پر کامیاب ہوتی ہے تو مستقبل میں ٹائپ-1 ذیابیطس کا علاج ممکن ہو سکتا ہے۔’انٹرنیشنل کانفرنس آن ایڈوانسڈ ٹیکنالوجیز اینڈ ٹریٹمنٹس فار ڈایابٹیز‘ میں یہ رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ سائنسدانوں نے ایک خاص طریقے کی جینز تھیراپی تیار کی ہے، جس کے ایک سنگل انجکشن سے پٹھوں کو طویل مدت تک انسولن بنانے والے اعضا میں بدلا جا سکے گا۔ اس ایک انجکشن کی مدد سے کئی سالوں یا پھر شاید دہائیوں تک جسم میں انسولن بنتا رہے گا اور مریضوں کو روزانہ انسولن کا انجکشن لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ماہرین نے بتایا کہ یہ دنیا میں اپنی طرح کی پہلی اسٹڈی ہے، جس میں سب سے پہلے ان بالغوں کو شامل کیا جائے گا جن کا بلڈ شگر ٹھیک سے کنٹرول میں نہیں رہتا اور جو پہلے سے ہی آٹومیٹیڈ انسولن ڈیلیوری سسٹم کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے سائنسدانوں کو یہ باریکی سے ٹریک کرنے کا موقع ملے گا کہ یہ تھیراپی کتنا انسولن بناتی ہے اور گلوکوز کی سطح کو کتنے اثردار طریقے سے مستحکم رکھتی ہے۔انگلینڈ کی ’نیشنل ہیلتھ سروس‘ (این ایچ ایس) میں ذیابیطس کے لیے نیشنل اسپیشلٹی ایڈوائزر ڈاکٹر پارتھ کہتے ہیں کہ ’’یہ طریقہ واقعی بہت دلچسپ ہے اور اس میں لاعلاج بیماری کو پوری طرح ٹھیک کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر یہ واقعی میں کامیاب ہوتا ہے تو اس سے لاکھوں لوگوں کو مدد مل سکتی ہے۔‘‘’کریا-839‘ نام کی یہ تھیراپی ایک بالکل ہی الگ طریقہ اختیار کرتی ہے۔ انجکشن یا کسی ڈیوائس کے ذریعہ انسولن کی کمی پوری کرنے کی جگہ اس کا مقصد مریض کے اپنے ہی پٹھوں کو طویل مدت تک انسولن بنانے والی فیکٹری میں بدلنا ہے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ ایک بار انجکشن لگانے کے بعد پٹھوں کی خلیات انسولن اور بلڈ شگر کو کنٹرول کرنے والے دوسرے پروٹین بنانا شروع کر دیں گی، جس سے روزانہ کے علاج کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔