راہل گاندھی کا حکومت سے تلخ سوال: بہوجن صنعت کاروں کو سرکاری ٹھیکوں سے کیوں باہر رکھا جارہا ہے؟

Wait 5 sec.

 لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں پوچھے گئے سوال اور اس پر حکومت کے جواب کا حوالہ دیتے ہوئے منگل کو کہا کہ بہوجن صنعت کاروں کو ملک کے سب سے بڑے عوامی ٹھیکوں سے باہر کیوں رکھا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے گزشتہ 2 اپریل کو لوک سبھا میں وزارت ہاؤسنگ اور شہری امور سے متعلق تحریری سوالات پوچھے تھے۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے منگل کے روز فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’’میں نے پارلیمنٹ میں حکومت سے پوچھا کہ پچھلے سال 16,500 کروڑ روپئے کے عوامی کاموں کے ٹھیکوں میں کتنے ٹھیکے دلت، قبائلی اور پسماندہ طبقات کے کاروباریوں کو ملے؟ ان کا جواب انتہائی تشویشناک تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں کوئی ڈیٹا ہی نہیں رکھتی ہے‘‘۔راہل گاندھی کا حکومت پر سخت حملہ: ’2023 میں 66,955 نوجوانوں نے جان دی، جواب دہی صفر‘کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ پالیسی کے مطابق پبلک پروکیورمنٹ کے عمل کے تحت 25 فیصد خریداری ایم ایس ایم ای سے ہونی چاہیے جس میں سے 4 فیصد خریداری دلت اور قبائلی کاروباریوں سے کی جانا طے ہے لیکن جب بات سب سے بڑے اور سب سے زیادہ منافع بخش ٹھیکوں اور عوامی کاموں کی کی جاتی ہے تو حکومت کہتی ہے کہ یہ ’’لازمی‘‘ نہیں ہے۔ رائے بریلی سے لوک سبھا کے رکن راہل گاندھی نے دعوی کیا کہ یہ صرف ایک انتظامی کوتاہی نہیں ہے، یہ مودی حکومت کی پالیسیوں کے ذریعہ دانستہ طور پر بنائے گئے بائیکاٹ کا نظام ہے جو سماجی اور اقتصافی انصاف کو کمزور کرتا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ سوال بہت سیدھا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے عوامی ٹھیکوں سے بہوجن کاروباریوں کو باہر کیوں رکھا جا رہا ہے؟راہل گاندھی کے سوال کے جواب میں ہاؤسنگ اور شہری امور کے وزیر مملکت توکھن ساہو نے پچھلے 5 سالوں کے دوران دیئے گئے عوامی کاموں اور بنیادی ڈھانچے کے ٹھیکوں کی سال بہ سال تعداد اور لاگت کی فہرست فراہم کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ فی الحال درج فہرست ذات (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) سے تعلق رکھنے والے افراد کی ملکیت والی صنعتوں کو دیئے گئے ٹھیکوں کے بارے میں پتا لگانے کے لیے فی الحال کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔