نیتن یاہو کی ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ بندی کے خلاف وارننگ

Wait 5 sec.

تل ابیب(7 اپریل 2026): اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کو ٹرمپ کو کال کر کے کہا جنگ بندی نہ کریں۔ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے گفتگو میں کہا کہ وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے اس مرحلے پر جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق نہ کریں۔یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی ثالثی میں 45 روزہ عارضی جنگ بندی کی ایک مسودہ تجویز واشنگٹن اور تہران کو غور کے لیے پیش کی گئی ہے۔جواب میں ایران نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے ایران کو اپنا الٹی میٹم برقرار رکھا ہے کہ وہ منگل کی رات تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے ورنہ ایران کو "جہنم” کا سامنا کرنا پڑے گا۔دوسری جانب اسرائیل نے عوامی سطح پر اس تجویز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، تاہم ‘اسرائیل ہایوم’ کے مطابق نتن یاہو نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کی صورت میں بھی یروشلم لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں روکنے کا پابند نہیں ہوگا۔اہلکار نے بتایا کہ نتن یاہو نے اتوار کو بظاہر ایران میں گرنے والے امریکی ایف-15 پائلٹ کی کامیاب واپسی پر مبارکباد دینے کے لیے ٹرمپ کو فون کیا، لیکن حقیقت میں اس گفتگو کا مقصد ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی پر تشویش کا اظہار کرنا تھا۔ اہلکار کے مطابق نتن یاہو کا ماننا ہے کہ اس مرحلے پر جنگ بندی کے سنگین خطرات ہو سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ بظاہر اس بات پر قائل نہیں ہوئے اور انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ اگر ایران واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کر لیتا ہے تو جنگ بندی ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم صدر نے زور دیا کہ وہ تہران سے تمام افزودہ یورینیم کی حوالگی اور دوبارہ افزودگی نہ کرنے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی حکام نے چینل 12 کو بتایا کہ ایران کے موجودہ سخت موقف کے باعث مستقبل قریب میں کسی معاہدے کا امکان کم ہے۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مذاکرات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورینیم کی افزودگی کا حق چھوڑنے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔