کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہونے کے لیے امریکا کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’’مستعفی ہونا ہماری لغت کا حصہ نہیں ہے۔صدر نے کمیونسٹ حکومت والے کیوبا کو "خود ارادیت” کے حق کے ساتھ ایک "آزاد خود مختار ریاست” قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ جزیرہ "امریکہ کے ڈیزائن کے تابع نہیں ہے”۔انہوں نے کہا کہ کیوبا میں جو لوگ قیادت کے عہدوں پر ہیں ان کا انتخاب امریکی حکومت نہیں کرتی۔واضح رہے کہ 2018 سے صدر کو ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے حکومت کی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور مطالبات کا سامنا ہے۔ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ کیوبا کو وینزویلا اور ایران جیسی قسمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جنوری میں ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد کیوبا کو تیل کی اہم سپلائی منقطع کر دی گئی تھی۔ اس کے بعد سے امریکہ نے جزیرے پر تیل کی ناکہ بندی کر دی ہے اور کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے کسی بھی ملک پر محصولات عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔