منشیات کے مکروہ دھندے پر چلنے والی ناکام افغان طالبان رجیمنے خطہ کیلئے خطرات بڑھا دئیے

Wait 5 sec.

نیویارک(7 اپریل 2026): اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ میں خطرناک اضافے سے علاقائی سلامتی کیلئے سنگین خطرات پیدا ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسداد منشیات و جرائم نے افغانستان میں منشیات کے بڑھتے ہوئے غیر قانونی کاروبار اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے زیر سایہ یہ مکروہ دھندہ علاقائی امن و استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔افغانستان انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے مصنوعی منشیات، بالخصوص میتھا مفیٹامین (آئس) کی تیاری اور اسمگلنگ میں ہوش ربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے منشیات اور پراکسی دہشت گرد نیٹ ورکس کو معیشت کا واحد سہارا بنا لیا ہے۔رپورٹ کے مطابق خطے میں میتھا مفیٹامین کی ضبطگی 2023 کے مقابلے میں 50 فیصد سے زائد رہی ہے، جو افغانستان میں اس کی بڑھتی ہوئی پیداوار کا واضح ثبوت ہے۔ افغانستان میں منظم جرائم پیشہ گروہوں نے میتھا مفیٹامین جیسی مصنوعی منشیات کو باقاعدہ ایک کاروباری ماڈل بنا لیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ جورجٹ گینیون نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کا منشیات کا مسئلہ صرف اس ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات اب بیرون ملک بھی جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ناکام افغان طالبان رجیم کے اس طرز عمل نے پورے خطے کے لیے خطرات بڑھا دئیے ہیں۔