ٹوکیو (07 اپریل 2026): ایران نے جاپانی نشریاتی ادارے این ایچ کے کے بیورو چیف کو رہا کر دیا، تاہم اس کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد ہے۔جاپانی حکومت کے مطابق ایران میں کئی ماہ سے زیرِ حراست ایک جاپانی شہری کو رہا کر دیا گیا ہے، تاہم وہ تاحال ملک چھوڑنے سے قاصر ہے۔ کیوڈو نیوز ایجنسی کے مطابق رہا ہونے والا شخص جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کا تہران بیورو چیف ہے، جسے سیکیورٹی سے متعلق ایک مبینہ الزام کا سامنا ہے، اسی وجہ سے وہ ایران سے باہر نہیں جا سکتا۔جاپانی حکومتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ صحافی کو ایران میں مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ جاپان کے حکومتی ترجمان منورو کیہارا نے منگل کو ٹوکیو میں صحافیوں کو بتایا کہ ایرانی حکام نے اس شخص کو پیر کے روز ضمانت پر رہا کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایران میں جاپان کے سفیر تماکی تسوکادا نے رہائی پانے والے شخص سے ملاقات کی اور وہ ٹھیک ہیں۔Japanese journalist detained in Iran "released on bail” https://t.co/t7C3MC398X— Kyodo News | Japan (@kyodo_english) April 7, 2026گزشتہ ماہ ایران میں حراست میں لیے گئے 2 جاپانی شہریوں میں سے ایک کو 22 مارچ کو رہا کر کے جاپان واپس جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اس طرح ایران کی جانب سے 2 ماہ کے دوران رہائی پانے والا یہ دوسرا جاپانی شہری ہے۔ جاپانی وزیر خارجہ نے اس سے قبل ایرانی ہم منصب سے شہریوں کی رہائی کی درخواست کی تھی۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںیاد رہے کہ مارچ کے وسط میں جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے اعلان کیا تھا کہ گزشتہ جون میں گرفتار کیے گئے دو جاپانی شہریوں میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا ہے، جب کہ دوسرے کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔جاپانی وزیر اعظم کا اعلانجاپان کی وزیر اعظم سانی تاکائیچی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ تاکائیچی نے پارلیمنٹ کو بتایا ’’مجھے یاد ہے کہ میں نے کل کہا تھا کہ ہم ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔‘‘انھوں نے کہا ’’ہمیں امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے میں رہنا ہے، اسی لیے ہم دونوں ممالک کے صدور سے ٹیلیفونک گفتگو کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ تاکائیچی نے یہ اعلان اس خبر کے سامنے آنے کے بعد کیا کہ ایران میں جنوری سے زیر حراست دوسرے جاپانی شہری کو رہا کر دیا گیا ہے۔جاپان کی وزارت خارجہ کے مطابق پیر کی رات جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر بات کی، جس میں ٹوکیو کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا گیا کہ صورت حال میں فوری کشیدگی کا خاتمہ نہایت اہم ہے۔