مذاکرات میں امریکا کون سا مطالبہ کرے گا؟

Wait 5 sec.

امریکا ایران میں امریکیوں کی رہائی کا مطالبہ کرے گا۔واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر ایران میں قید امریکیوں کی رہائی کا مطالبہ کرے گا۔نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا اس معاملے کو کس حد اٹھائے گا اور اس پر کتنا دباؤ ڈالے گا جو اس بات پر منحصر کیا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کیسے آگے بڑھیں گے۔پاکستان کا دارالحکومت اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی امن مذاکرات کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات کو بین الاقوامی سطح پر "اسلام آباد معاہدہ” کی جانب پہلا بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔,مذاکرات دفتر خارجہ یا کسی نجی ہوٹل میں ہونے کا امکان ہے ، آج وفود کی سطح پر ابتدائی بات چیت ہوگی، جبکہ مذاکرات کا سب سے اہم اور مرکزی مرحلہ ہفتہ (کل) کو ہوگا۔امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس، اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں چین، روس اور خلیجی ممالک کی بطور مبصر شرکت بھی متوقع ہے۔