مشرقِ وسطیٰ کی اہم ترین سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توانائی اور جغرافیائی سیاست کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے صورتحال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔آبنائے ہرمز میں کشیدگی تاحال برقرار ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس اہم گزرگاہ کے مستقبل پر مرکوز ہیں، جو دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے اس اہم بحری راستے کی جزوی بندش کے بعد عالمی تجارت شدید دباؤ کا شکار ہے، بین الاقوامی شپنگ سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ بندی اس شرط پر طے پائی تھی کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے گا، جسے ایران نے قبول بھی کیا تاہم بعد ازاں امریکہ نے ایران پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ ایران کو تیل بردار جہازوں سے فیس وصول نہیں کرنی چاہیے اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو اسے فوری طور پر بند کیا جائے۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 128 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں اب تک صرف 9 جہاز ہی گزر سکے ہیں، جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔برطانیہ کے وزیر اعظم نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر سے رابطہ کیا اور زور دیا کہ شپنگ بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق کھربوں ڈالر مالیت کا سامان جہازوں میں پھنسا ہوا ہے جو اس وقت نقل و حرکت سے قاصر ہیں۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر فی بیرل 90 ڈالر کے قریب پہنچ گئی ہیں، جو حالیہ جنگ بندی کے بعد کم ہوئی تھیں، ماہرین کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔