’جنگ کا بدلہ جنگ اور منطق کا جواب منطق سے‘: قالیباف کا ٹرمپ کو اہم پیغام

Wait 5 sec.

تہران (12 اپریل 2026): ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکی پر اپنے ردعمل کا اظہار کر دیا۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے محمد باقر قالیباف کا بیان نشر کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات میں خیر سگالی کے اظہار کیلیے بہترین اقدامات کیے تھے جس کے نتیجے میں پیشرفت بھی ہوئی۔محمد باقر قالیباف نے بیان میں واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ جنگ کریں گے تو ہم بھی جنگ کریں گے اور اگر آپ منطق کے ساتھ آگے بڑھیں گے تو ہم بھی منطق سے ہی جواب دیں گے۔اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی دھمکی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیتے ہوئے خبردار کیا۔ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں دشمن کو موت کے بھنور میں پھنسا دیں گے، آبی گزر گاہ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔بیان میں کہا گیا کہ دشمن کی کوئی بھی غلط حرکت اسے مہلک بھنور میں جکڑ لے گی، اپنی آبی سرحدوں کے دفاع کیلیے پوری طرح تیار ہیں، کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ٹرمپ نے کیا دھمکی دی؟واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے جا رہی ہے، آبی گزر گاہ سے کسی بھی جہاز کو گزرنے نہیں دیا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ امریکی بحریہ کو بین الاقوامی سمندر میں ایرانی جہازوں کو روکنے کی ہدایت کر دی، آبنائے ہرمز میں ایران کی بچھائی گئی بارودی سرنگیں تباہ کر دیں گے، پُرامن جہازوں پر گولی چلانے والے ایرانیوں کو ہلاک کر دیا جائے گا۔انہوں نے لکھا کہ ایران آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہا، اس کی وعدہ خلافی سے دنیا بھر میں بے چینی اور مشکلات پیدا ہوئیں، تہران نے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کا دعویٰ کیا حالانکہ ایرانی بحریہ اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں تباہ ہو چکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں شاید بارودی سرنگیں نہ ہوں لیکن کون خطرہ مول لے گا؟ کوئی شپنگ کمپنی نہیں چاہے گی کہ اس کا جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔