کانگریس نے مودی حکومت اور ایل ڈی ایف پر کیرلم کو نظر انداز کرنے کا لگایا الزام، مختلف مسائل کا کیا ذکر

Wait 5 sec.

کانگریس نے کیرلم کی پینارائی وجین حکومت کے ساتھ ساتھ مرکز کی مودی حکومت پر بھی ریاست کو نظر انداز کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ آج کانگریس کی جنرل سکریٹری کماری شیلجا نے کیرلم میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا اور ریاست کو درپیش اہم مسائل پر تشویش کا بھی اظہار کیا۔ میڈیا اہلکاروں کے سامنے کانگریس لیڈر نے بایاں محاذ حکومت (ایل ڈی ایف) کی عوام مخالف پالیسیوں کو سامنے رکھتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔Man-animal conflict is a major issue in Keralam, and this has also been raised in Parliament.At the same time, there's climate change and natural disasters affecting humans and animals. The government must step in, as we can't simply say nature has taken its course and ask what… pic.twitter.com/2Nz4v1GgC9— Congress (@INCIndia) April 7, 2026کماری شیلجا نے کہا کہ کیرلم میں انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان بڑھتا ہوا تصادم ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جسے پارلیمنٹ میں بھی اٹھایا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود کوئی ٹھوس پالیسی سامنے نہیں لائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کی زندگی کو بھی متاثر کر رہی ہیں، ایسے میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مؤثر اقدامات کرے۔ محض یہ کہہ دینا کہ قدرت اپنا کام کر رہی ہے، مسائل کا حل نہیں ہو سکتا، کافی نہیں ہے۔کماری شیلجا نے ایک دیگر اہم مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے کئی دیہات خالی ہوتے جا رہے ہیں اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ حکومت کے پاس نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی۔ انہوں نے کیرلم کی شہری صورتحال پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ’’کیرلم میں شہری منصوبہ بندی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ سیوریج نظام، پینے کے پانی کی فراہمی، پانی کی نکاسی، سڑکیں اور عوامی صحت جیسے بنیادی شعبے بری طرح متاثر ہیں، لیکن ایل ڈی ایف حکومت کے پاس ان مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔Keralam's fishing industry is world-renowned, but fishermen face challenges like climate change and man-made issues. Their livelihoods are hit by international conflicts, trade deals, and unmet local needs. Has the LDF government kept up with tech and supported fishermen?… pic.twitter.com/bV6bNPEovQ— Congress (@INCIndia) April 7, 2026کانگریس جنرل سکریٹری نے کیرلم کی ماہی گیری صنعت کو لاحق پریشانی پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا بھر میں اپنی شناخت رکھتی ہے، لیکن اس صنعت سے وابستہ ماہی گیر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی، بین الاقوامی تنازعات، تجارتی معاہدے اور مقامی سطح پر سہولیات کی کمی نے ان کے روزگار کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایل ڈی ایف حکومت نے ٹیکنالوجی کے میدان میں ماہی گیروں کی مدد کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا ہے؟کماری شیلجا نے مرکزی حکومت اور ایل ڈی ایف دونوں پر کیرلم کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کو اقتدار حاصل ہوا تو وہ ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے گی، انہیں بہتر رہائش فراہم کرے گی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے ان کے روزگار کو مستحکم بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی۔