نوئیڈا میں ملازمین کا پُرتشدد احتجاج، اکھلیش نے بی جے پی حکومت کو بنایا نشانہ

Wait 5 sec.

 تنخواہ میں اضافہ کئے جانے کے مطالبے کو لے کر نوئیڈا میں پرائیویٹ ملازمین کا احتجاج لگاتار شدید ہوتا جارہا ہے۔ سڑک پر اترے ملازمین کے احتجاج کی وجہ سے دہلی۔این سی آر میں ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ اس دوران سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو نے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’تنخواہ بڑھانے کی مانگ کو لے کر پُرتشدد ہوئے احتجاج کی وجہ بی جے پی حکومت کی وہ یکطرفہ پالیسی ہے جو سرمایہ داروں کی پرورش کرتی پالتی ہے لیکن عام نوکری کرنے والے ملازمین اورتنخواہ دار کارکن کا استحصال کرتی ہے‘‘۔اکھلیش یادو کا بی جے پی حکومت پر حملہ- ’کسان نظرانداز، بارش و ژالہ باری سے فصلیں تباہ‘اکھلی یادو نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’ بی جے پی کے چندہ دار سرمایہ داروں کے اے ٹی ایم میں تو پیسے بھرتے جارہے ہیں لیکن ملازمین اور مزدوروں کی تنخواہ کے لیے ان کے اے ٹی خالی ہیں۔‘‘ ایس پی لیڈر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’’ بے تحاشہ مہنگائی کے اس دور میں کم تنخواہ میں گھر چلانا کتنا مشکل ہے، یہ ایک خاندان والا فرد ہی سمجھ سکتا ہے‘‘۔ انہوں نے آخر میں لکھا کہ ’’تنخواہ دار کہے آج کا، نہیں چاہئے بھاجپا‘۔नोएडा में वेतन बढ़ाने को लेकर उग्र हुए आंदोलन का कारण भाजपा सरकार की वो एकतरफ़ा नीति है जो पूंजीपतियों का पोषण करती है लेकिन सामान्य काम करनेवाले कर्मचारियों और वेतनभोगी श्रमिकों-मज़दूरों का शोषण। भाजपाई चंदादायी पूँजीपतियों के एटीएम में तो पैसे भरते जा रहे हैं, लेकिन… pic.twitter.com/4fPNICZnVB— Akhilesh Yadav (@yadavakhilesh) April 13, 2026بتادیں کہ قومی راجدھانی دہلی سے متصل نوئیڈا کے سیکٹر 59 اور 60 میں بھی ملازمین نے کام چھوڑ کر احتجاج شروع کر دیا ہے جہاں مشتعل ہجوم نے دو کاروں کے شیشے توڑ دیے اور دو موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری بشمول پیرا ملٹری فورسز (پی اے سی) اور ریزرو ایئر فورس (آراے ایف) کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ سیکٹر 62 میں بھی ملازمین کا احتجاج جاری ہے، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جب کہ پولیس صورتحال کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان کچھ  ملازمین نے اپنے گاؤں لوٹنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہاں رہنا محفوظ نہیں ہے۔