برسلز (11 اپریل 2026): یورپی یونین نے اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں 30 نئی بستیوں کے منصوبے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔یورپی یونین کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں، جب کہ عالمی عدالت انصاف بھی ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔یورپی یونین کے مطابق اسرائیلی بستیوں کی توسیع کا منصوبہ خطے میں امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچاتا ہے اور دو ریاستی حل کے لیے جاری کوششوں کو متاثر کر رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی آبادی کا تحفظ ضروری ہے اور اسرائیلی اقدامات کی وجہ سے امن عمل کمزور ہو رہا ہے۔ یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بستیوں کی تعمیر کا فیصلہ واپس لے اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے۔ادھر او آئی سی نے بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی منظوری کی مذمت کی ہے، اور فلسطینی صدارتی دفتر نے منصوبے کو عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، او آئی سی اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل نے اپریل کے آغاز میں خفیہ طور پر نئی بستیوں کی منظوری دی، اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔اسلام آباد مذاکرات، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچ گئےاو آئی سی نے مشرقی القدس سمیت تمام اقدامات کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا۔ نیتن یاہو حکومت کے بعد 2022 سے اب تک 102 بستیوں کی منظوری دی جا چکی ہے، او آئی سی نے بستیوں میں اضافے، زمین پر قبضے اور آبادکاروں کی دہشت گردی پر تشویش ظاہر کی، اور دو ریاستی حل کو نقصان پہنچانے کی اسرائیلی کوششوں پر خبردار کیا۔ترکیہ نے بھی نئی بستیوں کی منظوری کو اقوام متحدہ قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا، سویڈن نے بھی اسرائیلی فیصلے کو امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے اور 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد کر چکا ہے۔