ممبئی: یورپی یونین (ای یو) نے اپنے بارڈر کنٹرول سسٹم میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے امیگریشن کیلئے بائیومیٹرک پر مبنی نیا ڈجیٹل سسٹم متعارف کرایا ہے جس کے تحت کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر یورپی مسافروں کیلئے روایتی پاسپورٹ اسٹیمپنگ (مہر لگانے) کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس نئے نظام کو ”اینٹری/ایگزٹ سسٹم“ (ای ای ایس) کا نام دیا گیا ہے اور اسے 10 اپریل سے نافذ کردیا گیا ہے۔نئے نظام کے تحت، مسافروں کے پاسپورٹ پر اب اسٹیمپ یا مہر نہیں لگائی جائے گی۔ اس کے بجائے، کسی بھی یورپی ملک میں پہلی مرتبہ داخلے کے موقع پر سرحدی حکام، مسافروں کے چہرے کی تصاویر اور انگلیوں کے نشانات سمیت بائیومیٹرک ڈیٹا جمع کریں گے۔یہ معلومات قیام کی تاریخ، مقام اور دورانیہ جیسی تفصیلات کے ساتھ ڈجیٹل طور پر ریکارڈ کی جائیں گی۔ یہ ڈیٹا تین سال تک یا مسافر کے نیا پاسپورٹ حاصل کرنے تک ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ رہے گا۔حکام کے مطابق یہ نظام آمد و رفت کے ریکارڈ کی خودکار ٹریکنگ کو ممکن بنائے گا، جس کی مدد سے ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کی نشان دہی کرنا اور شناختی دھوکہ دہی کو روکنا آسان ہو جائے گا۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ ای ای ایس کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے کے دوران، خاص طور پر مصروف ہوائی اڈوں اور زمینی سرحدوں پر مسافروں کو پروسیسنگ کیلئے لمبی قطاروں اور طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔نیدرلینڈز کا ’شیڈو فادرز‘ اسکینڈل: انسانی ہمدردی کے قانون کی آڑ میں شہریت کی تجارتتاہم، ایک بار رجسٹریشن ہو جانے کے بعد، دوبارہ آنے والے مسافروں کو تیز تر پروسیسنگ کا فائدہ ملنے کی توقع ہے، کیونکہ ان کا ڈیٹا تصدیق کیلئے سسٹم میں پہلے سے دستیاب ہوگا۔